کوئٹہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پولیس تھانوں پر حملہ بم دھماکے اسلح چھین لیاگیا

 


کوئٹہ ( مانیٹرنگ ڈیسک ) مقبوضہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے تحصیل ھوشاب میں مسلح افراد کا حملہ، 


لیویز تھانے اور نادرا آفس قبضے کے بعد نذر آتش، شاہراہوں پر ناکہ بندی، متعدد افراد کی گرفتاری کی بھی اطلاعات ہیں۔


علاوہ ازین پنجگور کے علاقے وشبود میں مسلح افراد نے ناکہ بندی کی، پولیس اہلکار گرفتار اور پولیس کی دو گاڑیاں تحویل میں لیکر بعد ازاں نذر آتش کردیئے گئے،

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ پنجگور بونستان میں پولیس چیک پوسٹ قبضہ کرلیاگیا ہے 

مسلح افراد کے ناکہ بندی کے دوران ڈیتھ اسکواڈ سرغنہ قاسم کے کارندوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔


اس طرح بولان، بھاگ کے علاقے میں پولیس تھانے پر دستی بم حملے کی اطلاعات ہیں۔ 

رہورٹ کے مطابق ڈھاڈر پولیس تھانے پر دستی بم حملہ کیا گیا تاہم نقصانات بارے معلومات فراہم نہیں ہوسکے ہیں ۔

علاوہ ازیں کوئٹہ، جوائنٹ روڈ پر پاکستانی فورسز کی چوکی کو بھی نامعلوم افراد نے دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔


تربت، ڈی بلوچ جدگال ڈن میں پاکستانی فورسز پر ،جبکہ دستی بم حملہ

 بلیدہ میں دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات بھی ہیں ۔

کوئٹہ ہزار گنجی میں پاکستانی فورسز کی چوکی پر بھی دستی بم حملہ کیاگیا ،

اس طرح کوئٹہ، فیض آباد میں ریلوے پاٹک کی جانب پاکستانی فورسز چوکی کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ۔

کوئٹہ، اسپنی روڈ پر پاکستانی فورسز کے چوکی پر دستی بم حملہ ہوا ہے ۔اور 

کوئٹہ، اسپنی روڈ پر پاکستانی فورسز کے چوکی کو بھی دستی بم حملے میں اڑا دیا گیا ہے۔


ادھر صحبت پور میں مرکزی شاہراہ پر مسلح افراد کی ناکہ بندی جاری ہے ۔


دریں اثناء پنجگور، مجبور آباد، بونستان میں پاکستانی فورسز کی پیش قدمی، قافلے پر مسلح افراد کا حملہ، علاقے میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آواز سنی گئی ۔


خاران کے ہندو محلہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے خدا نظر نامی ایک شخص جاں بحق ہوا، جبکہ بلیدہ میں بھی شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔


اس طرح ناصر آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، یوسی چیئرمین منظور احمد اور مختار گچکی کو نامعلوم افراد نے ہوت آباد سے اغوا کر لیا ہے۔ واقعے کی تفتیش جاری ہے۔

ھوشاب زیرو پوائنٹ کے مقام پر پاکستانی فورسز کے قافلے پر مسلح افراد کا حملہ، فورسز کو جانی نقصانات اٹھانے کی اطلاعات

فورسز کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب شہر کا کنٹرول مسلح افراد نے لیا تھا۔ 

ڈیرہ مراد جمالی میں مرکزی شاہراہ پر مسلح افراد کی ناکہ بندی جاری ہے، جبکہ مستونگ، کوئٹہ سے متصل دشت کے علاقے میں کوئٹہ - کراچی مرکزی شاہراہ پر بڑی تعداد میں مسلح افراد نے ناکہ بندی کر رکھی ہے ، شاہراہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ 

علاقے میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی بھی آواز سنی جارہی ہے۔ مزید تفصیلات آنا باقی ہیں ۔

تازہ ترین اطلاعات ہیں کہ بلوچ سرمچار کوئٹہ شہر کے قریب دشت، تیرہ میل کے علاقے تک پہنچ گئے۔ کوئٹہ- سندھ مرکزی شاہراہ پر کنٹرول، علاقے میں گھنٹے سے زائد شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آواز سے علاقہ گونجتا رہا۔

قلات، ناگاہو میں پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ پر سینکڑوں مسلح افراد کا حملہ، شدید نوعیت کی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

کوئٹہ، سریاب تھانے پر مسلح افراد نے دستی بم حملہ کردیا ۔

نوشکی، احمد وال کے علاقے میں لیویز اور پولیس تھانے پر مسلح افراد کا قبضہ، شاہراہ پر ایک گھنٹے سے زائد ناکہ بندی جاری۔ 

تربت کنچتی کراس پر مسلح افراد کی ناکہ بندی، جدگال ڈن پر فورسز کیمپ کی جانب سے دھماکہ اور فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔ اس طرح 

مند بلوچ آباد میں مسلح افراد کی ناکہ بندی اور گشت جاری ہے۔



Post a Comment

Previous Post Next Post