خضدار ( مانیٹرنگ ڈیسک ) خضدار سرکاری حمایت یافتہ مسلح گروہ (ڈیتھ اسکواڈز) کے سربراہ شفیق مینگل کے کیمپ دوبارہ خضدار کے علاقے توتک منتقل کیا جارہا ہے۔
میڈیا کو ذرائع نے بتایا کہ شفیق مینگل کے مسلح کیمپ کو سیکورٹی خدشات کے باعث خضدار، باڈری سے توتک کے مقام منتقل کیا جارہا ہے۔
علاقے میں مسلح گروہ کی جانب سے چیک پوسٹ قائم کیئے گئے ہیں جس کے باعث لوگ خوف میں مبتلا ہونے کیساتھ مشکلات کا شکار ہیں۔
شفیق مینگل کو خضدار سمیت بلوچستان بھر میں ڈیتھ اسکواڈز کے سربراہ سمیت مذہبی انتہاء پسندوں کے پشت پناہی کرنے والے شخص کے طور پر جانا جاتا ہے۔
خیال رہے خضدار میں 18 فروری 2011 کو پاکستانی فورسز نے توتک کے گاؤں کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لیکر گھر گھر تلاشی لی، کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی آپریشن میں گاؤں کے تمام مرد افراد کو ایک جگہ جمع کرکے فورسز اہلکاروں نے انہیں حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا بعدازاں ان میں سے کئی افراد بازیاب ہوگئے لیکن 82 سالہ محمد رحیم خان قلندرانی اور اس کے خاندان کے دیگر 16 افراد بازیاب نہیں ہوسکیں۔
مذکورہ آپریشن کے بعد توتک کے علاقے کو شفیق مینگل کے تحویل میں دیا گیا۔
توتک شہر کو اپنا ٹھکانہ بنانے کے بعد شفیق مینگل نے وہاں اپنے ٹارچر سیل قائم کیئے اور بلوچستان بھر سے معصوم لوگوں کو اغواء بعد وہاں پر زندانوں میں بند کرکے رکھا۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان دنوں مال مویشی چرانے والے ہم سے بات کرتےتھے کہ انھیں رات بھر شفیق کے کیمپ سے چیخ و پکارکی آوازیں آتی ہیں، جیسے کسی کو اذیت دیا جارہا ہو۔ شفیق مینگل نے اپنے توتک کیمپ کے احاطے میں ہی گھڑے کھود رکھے تھے اور دوران اذیت اگر کسی کی موت ہوجاتی تو اسے وہی پر دفنایا جاتا تھا۔
مذکورہ علاقے توتک مژی سے اجتماعی قبریں ملی تھی ان اجتماعی قبروں کی نشاندہی 2014 میں ایک چرواہے نے کیا تھا۔ ان قبروں سے کل ایک سو انہتر لاشیں برآمد ہوئیں، جن کی حالت اس قدر خراب تھی کے بعض کی صرف باقیات (ہڈیاں) ہی رہ گئی تھی۔ ان لاشوں میں سے صرف دو کی پہچان ہوئی جن کا تعلق بلوچستان کے علاقے آواران سے تھا۔