انہوں نے کہا ہےکہ آج صبح اوتھل میں بھتہ خور کوسٹ گارڈ نے ایک بلوچ ڈرائیور کو قتل کردیا۔ ہمارا تحریک اسی نسل کشی کے خلاف ہے جس میں نہ بلوچوں کے مزدور محفوظ ہیں، نہ سیاسی کارکن، نہ عورت اور بچے ہر طبقے کے لوگ ریاستی جبر و بربریت کا سامنا کررہے ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہاہےکہ یہ ڈرائیور مزدوری کرکے اپنے بچوں کے پیٹ پالتے ہیں لیکن اس ریاست سے یہ مزدوری بھی برداشت نہیں ہوتی ہے اور آئے روز بلوچ ڈرائیوروں کو اس طرح کے واقعات میں قتل کیا جارہا ہے۔
انھوں نے کہاہے کہ یہ بلوچ ڈرائیوروں کا پہلا واقع نہیں ہے اس سے قبل بھی پروم، پنجگور، زامران، دشت، واشک، دالبندین، نوکنڈی، سوراب سمیت مخلتف علاقوں میں متعدد بلوچ ڈرائیور ریاستی افواج ایف سی اور کوسٹ گارڈ کی جانب سے نا حق قتل کیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ نے کہا ہےکہ بلوچ ڈرائیور لاوارث نہیں ہیں جنہیں ریاستی افواج ہر دن بے دردی سے قتل کررہے ہیں۔ ہم اپنے ڈرائیوروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے لیے سیاسی و قانونی جنگ بھی لڑیں گے۔
