تربت تا شال لانگ مارچ کا خضدار پہنچنے پر پرتپاک استقبال ،حکومت بوکھلاہٹ کا شکار سی ٹی ڈی خلاف ایف آئی آر درج کرنے پر مجبور



خضدار: بلوچستان کا ، تاریخ ساز لانگ تربت تا کوئٹہ  اس وقت خضدار میں داخل ہو چکا ہے۔ جہاں ہزاروں لوگوں نے خضدار پہنچنے پر بھر پور استقبال کیا گیا ۔


 لانگ مارچ حوالے  بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جاری بیان میں کہا ہے کہ لانگ مارچ کا آج شام کا پڑاؤ خضدار میں ہوگا۔ بلوچ اپنی بقاء کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ بلوچستان بلخصوص جھالاوان کے عظیم فرزندوں سے لانگ مارچ میں بھرپور حصہ لینے کی اپیل کرتے ہیں۔خضدار شہر میں جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کے قتل کیخلاف احتجاج جاری ہے۔


علاوہ ازیں تاریخی لانگ مارچ سے بلوچستان کی نگران فوجی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر منفی پروپیگنڈہ شروع کررکھا ہے وہ پاکستانی قبضہ کو چھپاکر بلوچستان کے مظلوم نہتے عوام سامنے انکے بچوں کو اغوا کرنے پر شرمندہ ہونے ماوں کی آنسو پوچھنے  کے بجائے بڑی بے شرمی سے دہشت گرد فورسز کی حمایت میں بیان پر بیان داغ رہے ہیں  جس کی وجہ فورسز حوصلہ پاکر ظلم کا بازار گرم  رکھ رہے ہیں تازہ اطلاعات ہیں کہ  دہشت گرد فورسز نے  گوادر سے نوجوان گلوکار کو اسکے بھائی اور کزن سمیت جبری گمشدگی کا شکار بنایادیا ہے ۔ 

دریں اثناء تاازہ ترین اطلاع ہے کہ  پولیس اسٹیشن تربت میں مقتول بالاچ مولابخش کے والد کی مدعیت میں ایس ایچ او اور دیگر سی ٹی ڈی ریجنل آفیسر، ایس ایچ او ، تفتیشی آفیسر اور انچارج لاک اپ کےخلاف جعلی قتل کا مقدمہ  درج کیا گیا ہے ۔یاد رہے کہ سیشن جج تربت نے بالاچ مولا بخش کے قتل کا مقدمہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ مگر فوج اور انکے کاسہ لیس نگراں حکومت روڑے اٹکا رہے تھے ، جب لواحقین اور بلوچ عوام نے تربت سے شال  تک لانگ مارچ کا آغاز کیا تو وہ عوام کے سامنے  ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے تاکہ عوامی نفرت کو کسی بھی طرح کم کیاجاسکے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post