بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتال کیمپ کو آج 5260 دن مکمل



بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتال کیمپ کو آج 5260 دن ہو گئے ہیں۔


 اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بی ایس او پجار کے سینئر وائس چیرمین ملک بابل یونٹ سیکرٹری ڈگری کالج عصمت بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔


اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز وی بی ایم وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچوں سے ظلم ستم اور بربریت کا سلسلہ سلاروں تک محدود نہیں اس ظلم کی چکی ہیں شاہ سے گدا امیر سے غریب اعلی سے ادنی دانشور سے مزدور تمام طبقے اس زد میں ہیں۔ انسانیت کے رشتے یہاں اتنے کمزور بڑجاتے ہیں کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کے علمبردار ہیو من رائٹس کے پجاریوں کی خاموشی، تماشائی بنے رہنا  اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ درپردہ یہ قوتیں بلوچ نسل کشی میں برابر کی شریک ہیں ۔ 

اگر ایسا نہیں تو اس جمہوری دور میں بھی عسکری آپریشن اور یہ اغوا نما گرفتاریاں کیونکہ آج بھی جب دروازے پر کسی کے آنے کی سراسرہٹ ہوتی تو ایک ماں اپنے تمام کام چھوڑ کر نظر یں دروازے پر لگا دیتی ہے کہ کہیں میرا لخت جگر تو نہیں آیاہے۔


 ماما قدیر نے کہاں کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کا آغاز پاکستان ریاست کی جبری قبضے کے ساتھ ہی ہوا جو آج بھی تسلسل سے جارہی ہے اس طویل فوجی آپریشن میں لاکھوں کی تعداد میں بلوچ فرزندان کو تختہ مشک بنایا گیا اور ہزاروں بلوچوں کو ریاستی عقوبت خانوں میں غیر اخلاقی 

تشدد کا نشانہ بناکر شہید کیا گیا ہے بچے خواتین بوڑھے جوان سبھی ریاستی بربریت کا نشانہ بنے 

حتی کہ عورتوں کے پیٹ میں پلنے والے حمل بھی اس درندگی سے محفوظ نہ رہ سکے۔

 بلوچ ریاست پر اس بچھتر سالہ قبضے میں پاکستانی آرمی خفیہ اداروں نے جو کارئے نمایاں سرانجام دیئے وہ تاریخ میں انمنٹ ہوگئے بلوچ آبادیوں پر کارپٹ بمبار منٹ سے لیکر پینے کے پانی کے جوہڑوں میں زہر بھرنے فضا میں کیمیکل اسپرے سمٹ لوگوں خو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نیچے پھینکے جانے کے انسانیت کو شر مادینے والے ہر وہ عمل کا مرتکب ہوا جس کی دنیا میں مشال نہیں ملتی ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post