نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ محسن داوڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا ہے کہ شال (کوئٹہ ) اورچمن کی مقامی انتظامیہ کی جانب سے چمن میں جاری پرامن احتجاجی دھرنے میں شرکت سے مجھے روکا گیا اس سے قبل باجوڑ میں میری پارٹی کے2 پروگرام میں شرکت کی اجازت بھی نہیں دی گئی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراختر مینگل نے محسن داوڑ کو چمن میں جاری دھرنے سے روکنے کی مذمت کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ (ایکس) پر اپنے پیغام میں کہاہے کہ موجودہ انڈرٹیکر گورنمنٹ اپنے اقدامات سے یقینی بنا رہی ہے کہ عوام کو منصفانہ وآزادانہ انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کیلئے تمام تر آمرانہ چالوں کااستعمال کیاجائے ۔
دریں اثناء شال حق دوتحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن کو چمن دھرنے میں شرکت سے روکنے کیلئے جماعت اسلامی کے دفتر شال میں نظربند کردیا گیاہے۔ اس حوالے سے مولانا ہدایت الرحمن نے جاری بیان میں کہاہے کہ مظلوموں کی آواز طاقت سے نہیں دبائی جاسکتی۔
انھوں نے کہاہے کہ افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی، ہو جبری لاپتہ افراد کا مسئلہ یا گوادر ساحل و بارڈر ٹریڈ ہم ہر جگہ مظلوم کیساتھ اورظالم وظلم کیخلاف ہیں، بے حس حکمرانوں، مقتدر قوتوں کے ہتھکنڈے ہمیں عوامی جمہوری جدوجہد، حقوق کے حصول سے نہیں روک سکتے ہیں ۔
