شال وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر لکھا ہے کہ گزشتہ روز خضدار میں کاونٹر ٹیرززم ڈیپارٹمنٹ سی ٹی ڈی نے جن تین افراد کو مقابلے میں مارنے کا دعوی کیا تھا ان میں دوسرے شخص کی شناخت بھی پہلے سے لاپتہ عبداللہ ولد عرض محمد زہری کے نام سے ہواہے، جنہیں دو سال قبل خضدار زہری سے لاپتہ کیا تھا۔
آپ کو علم ہے اس سے قبل بھی وی بی ایم نےپی نے بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ خضدار سی ٹی ڈی کے جعلی مقابلے میں ھلاک آفتاب سمالانی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا۔جہنیں رواں سال 11 اگست کو ہزار گنجی کوئٹہ سے لاپتہ کیا گیا تھا۔ جن کے کیس کو تنظیمی سطح پر لاپتہ افراد کے حوالے سے بنائے گئے کمیشن کو فراہم بھی کیا گیا تھا۔
دوسری جانب ضلع واشک اور پنجگور سے علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ٹی ہاتھوں ھلاک کیئے جانے والا تیسر ا نعش لاپتہ نوجوان حمزہ ولد ابراہیم سکنہ راغے ضلع واشک کی ہے جنھیں تین سال قبل
فورسز نے پنجگور فوجی مرکزی کیمپ پیشی کیلے بلایا تھا جہاں جانے کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے ۔
