بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5227دن ہوگئے.
اظہار یکجہتی کرنے والوں میں تربت سے سیاسی سماجی کارکن وسیم سفر اور دیگر نے اظہار یکجہتی کی۔جبکہ احتجاجی کیمپ میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین نے کثیر تعداد میں شرکت کی، اور اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کیا ۔
اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے جاری بیان میں کہا ہے کہ آج کے نوجوان ہمت کے کندھوں پر شعور اور آگاہی بٹھا کر ردانقابیوں کے جابہ جا بچھائے گئے کانٹوں سے لہو لہان سہی مگر دھن کے پکے من کی آتش سے روشنی پاکر اپنے عظیم مقصد کے حصول کے لئے جان ہتھیلی پر رکھے رواں دواں ہیں۔
انھوں نے کہاہے کہ ہزاروں بلوچ فرزندوں کی سی ٹی ڈی ایف سی خفیہ اداروں کے ہاتھوں گمشدگی اور ان کی حراستی قتل میں تیزی بلوچ قوم تحریک کی کامیابی اور ایٹمی ریاست کی بے بسی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ اگست کے مہینے میں پاکستانی فورسز نے چالیس سے زاہد بلوچوں کو چن چن کر شہید کر دیا گیا اور نکی نعشیں ویرانوں میں پھینک دی گئیں ۔ انہی میں وہ پندرہ کے قریب لاپتہ افراد تھے جنہیں مختلف جگہوں اور مختلف اوقات میں جبری اغوا کرکے لاپتہ کردیا گیا تھا۔
مامانے کہاہے کہ خضدار میں جعلی مقابلہ کے نام پر تین لاپتہ افراد کی تشدد شدہ مسخ نعشیں پھینکی گئیں جن کی شناخت آفتاب سمالانی، حمزہ، عبداللہ کے نام سے ہوگئی ہے ،جنہیں فورسز نے ان کو مختلف اوقات ان کے گھروں پر چھاپہ مار کر جبری اغوا کر دیا تھا ،جو سب کے سب نہتے تھے۔ ریاست پاکستان برسرپیکار مسلح قوتوں سے مقابلہ کی سکت اور ہمت نہ رکھنے کی وجہ سے وہ اپنی خفت مٹانے کے لئے نہتے عوام اور سیاسی کارکن کو جبری اغوا بعد حراست دوران بدترین ٹارچر سے شہید کرنے کا روش اپنا چکی ہے۔
ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا ہےکہ بلوچ لیڈر شپ کو اس بارے میں سنجیدگی کے ساتھ سوچنا چاہئے اور نئی حکمت عملی کے بارے میں غور، فکر کرنی چاہئے اور اپنے اندرونی اختلافات ایک دوسرے پر الزامات لگانے ہیروازم کو ایک جانب رکھ کر اپنے اندر برداشت اتحاد اتفاق پیدا کرنا چاہئے اگر ہم اس طرح تقسیم در تقسیم رہیں اور ایک دوسرے سے نزدیکی کے بجائے دور بھاگتے رہیں تو ہم کبھی بھی اپنے منزل کی بجائے دور بھاگتے رہیں تو ہم کبھی بھی اپنے منزل کو نہیں پہنچ سکتے اتحاد اتفاق ایک دوسرے کو برداشت کرکے ایک ہوکر ہی ہم اپنی منزل کو پا سکتے ہیں۔۔
