بلوچستان سے کراچی جانے والی مسافروں کی پولیس کے ہاتھوں لٹنے کا نوٹس لیا جائے ، ڈرائیوروں نے روڈ بلاک کردی



بلوچستان سے کراچی سفر کرنے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے  روزانہ تقریبا 150 کے قریب  بس رات کو مسافر کراچی لے  جاتے ہیں ، مگر بدقسمتی سے  بلوچستان سے رات میں آنے والے بسوں کو کراچی شہر  میں داخل ہونے نہیں دیا جاتا  ، جس کی وجہ سے  مجبورا  مسافروں کو یوسف گوٹھ پر  اتار دیا جاتاہے ، جس کے بعد مسافر طویل سفر طے کرنے باوجود ٹیکسی یا  رکشو ں  میں بیٹھ کر شہر جلدی پہنچنا چاہتے  ہیں  تو آگے چل کرقدم قدم پر انھیں  کراچی پولیس کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔  جہاں کراچی پولیس مسافروں کو ڈرا دھمکا کر ان سے پیسے بٹورنا شروع   کردیا  ہے ، بھتہ  نہ دینے کی صورت میں اکثر مسافروں کو   سعید آباد  تھانے میں بند کیاجاتاہے ۔

  کافی بدنصیب  مسافر ایسے بھی ہے جو بس سے اترتے ہی پاکستانی فورسز خفیہ اداروں ،سی ٹی ڈی اور پولیس ہاتھوں لاپتہ ہو جاتے ہیں ۔۔

دوسری جانب مسافروں کو شکایت ہے کہ  تھانہ موچکو کے پولیس اہلکار حب سے کراچی علاج معالجے کیلئے کراچی کے بڑے ہسپتالوں کو جانے والے بلوچ خواتین  وحضرات کو موچکو چوکی سے لے کر شیرشاہ تک  روک روک کر ان کی تذلیل کرتے ہیں۔

انھوں نے کہاہے کہ گزشتہ  دن  تقریبا دوپہر دو بجے کڑی دھوپ میں  لکی چڑھائی پر حب سے کراچی جانے والی خواتین کی رکشہ کو  پولیس نے روک کر  تشدد کا نشانہ بناکر  ان کے پیسے چھین لئے بعد ازاں انھیں جانے دیاگیا  ۔

مسافروں نے اپیل کی ہے کہ انھیں   کراچی پولیس کی جگہ جگہ چیکنگ کے نام پرلوٹنے اور بلوچ خواتین وحضرات  کو  تذلیل  ہونے سے بچانے کیلے سندھ حکومت نوٹس لے اور شہری انکے کیلے آواز اٹھائیں ۔

دوسری جانب لسبیلہ اوتھل مرکزی   شاہراہ زیرو پوائنٹ ،بلوچی گوٹھ نزد دبٸی مسجد کے مقام پر کوچ ڈرائیوران نے کوسٹ گارڈ کے رویہ کے  خلاف روڈ بلاک کردیا ۔

شال  تا کراچی  شاہراہ بلاک ہونے کے باعث ٹریفک کا نظام معطل ہوگیا گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گٸیں سینکڑوں مسافر پھنس گئے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post