مسنگ پرسنز ڈے کی مناسبت سے کیچ کے مختلف علاقوں میں پمفلٹنگ ، ٹوئٹر اسپیس وکمپین اور زونل سطح پر مختلف پروگرامز کا انعقاد کیا گیا۔ بی ایس او آزاد



بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ 8 جون بطور بلوچ مسنگ پرسنز ڈے کے طور پر بلوچستان بھر میں منایا گیا ۔ اس سلسلے میں تربت سمیت کیچ کے  مختلف علاقوں میں پمفلٹنگ بھی کی گئی جبکہ ٹوئٹر کمپین کے ساتھ ٹوئٹر اسپیس بھی رکھا گیا جس میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ، ہیومن رائٹس کونسل آف بلوچستان کے سیکرٹری جنرل عبداللہ عباس، صحافی و سیاسی جہدکار حکیم بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین میں  آصف اور رشید کہ بہن بانک سائرہ بلوچ اورلاپتہ ظہور دوست کی بہن بانک سعدیہ بلوچ نے شرکت کرتے ہوئے اس دن کے حوالے سے گفتگو کی۔ 


 بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کو لاپتہ افراد کی صورت میں آج ایک قومی چیلنج کا سامنا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی اشد ضرورت ہے لیکن بدبختی سے کچھ نام نہاد پارٹیاں جو قوم پرستی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں لاپتہ افراد کے سنگین مسئلے سے اپنے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور حکومت و ریاست کو بلیک میل کرکے اپنے لیے ذاتی اور سیاسی مفادات حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے سنگین مسئلے کا ادراک رکھتے ہوئے اس کے خلاف متحدہ جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ذاکر سمیت کئی بلوچ لیڈران کو پاکستانی فورسز نے اس نیت اور سوچ کے ساتھ اغوا و شہید کیا کہ اس سے متعلقہ تنظیمیں اور تحریک ختم ہو جائیں گی مگر آج یہ ثابت ہو چکی ہے کہ جس نظریے پر بلوچ تنظیمیں قائم ہیں اور جدوجہد کر رہی ہیں یہ افراد کی غیرموجودگی سے کسی بھی طرح ختم نہیں ہو سکتی البتہ اتنی بڑی تحریک  مضبوطی اور کامیابی کیلئے ایسے شخصیات کا ہمیشہ سے ایک بڑا کردار ہوتا ہے۔ذاکر جان سمیت بلوچ لیڈران نے زندان قبول کیالیکن پاکستانی قبضے کو قبول نہیں کیا، یہ انہی کی جرات اور ہمت کا ثمر ہے کہ آج بی ایس او آزاد سمیت تحریک سے جڑے ادارے مضبوطی سے موجود ہیں۔  


لاپتہ آصف بلوچ اور رشید بلوچ کی بہن سائرہ بلوچ نے کہا کہ آصف اور رشید کی جبری طور پر گمشدگی کے بعد ہمارا خاندان پوری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ آصف اور ان کے دوستوں کو پنکنک مناتے ہوئے جبری طور پر گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا  دیگر دوست بازیاب ہو گئے ہیں لیکن آصف اور رشید اب تک لاپتہ ہیں  اگر انہوں نے کوئی ایسا جرم کیا ہے جو ریاست کے نظر میں غلط اور ریاست مخالف سرگرمی ہے تو ان کے اپنے عدالت موجود ہیں ، انہیں ادھر پیش کیا جائے لیکن ریاست کو اپنے عدالتوں پر بھی بھروسہ نہیں ہے۔ ہم جس تکلیف اور کرب سے گزر رے ہیں وہ بیان نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ درد ہمیں مضبوط بنا رہی ہے ہمیں مستقل جدوجہد سیکھا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپنے بھائیوں کی بازیابی کیلئے میں قوم پرست جماعتوں کے سربراہوں سے لیکر وفاقی وزیرداخلہ ثناء اللہ تک اپنا کیس پہنچا چکی ہوں لیکن ماسوائے مایوسی کے ہمیں کچھ بھی نہیں ملا ہے۔ جہاں تک ممکن ہو اہے ہم نے اپنی بات پہنچائی ہے لیکن بدقسمتی سے یہ ریاست ہمیں سننے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی اپنے قانون کو ماننے سے تیار ہے۔ جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے پر تمام طبقائے فکر کے لوگوں کو بات کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک گھر اور خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ اجتماعی بیماری ہے جس سے ہر دوسرا بلوچ متاثر ہے۔ 


ایچ آر سی پی کے سیکرٹری جنرل عبداللہ عباس بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیوں سے آج بلوچستان کا ہردوسرا شخص متاثر ہےلیکن اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس غیرانسانی عمل کے خلاف بطور قوم ہماری جدوجہد مطئمن کن نہیں ہے اس سنگین غیر انسانی عمل کو روکنے کا تعلق بلوچ عوام سے ہے کہ وہ اس کے خلاف کس نوعیت کی جدوجہد کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ  اس وقت شدید ضرورت ہے کہ عوام اس خوف سے نکل جائے کہ اگر اس کا ابھی تک کوئی لاپتہ نہیں ہوا ہے تو وہ مستقبل میں بھی اس سے متاثر نہیں ہوگا، آج ہر دوسرے دن کوئی جبری گمشدگی کا واقعہ پیش آتا ہے اور نئے کیسز میں زیادہ تر ایسے افراد کا نام شامل ہے جن کے خاندان کے افراد پہلے جبری گمشدگی کا شکار نہیں رہے ہیں تو اس اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر آج کچھ افراداس سے متاثر نہیں تو کل ان کا بھی کوئی قریبی اٹھایا جا سکتا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ہم ایک آنلائن میزیم پر کام کر رہے ہیں جہاں بلوچستان بھر سے لاپتہ افراد کے کیسز کو بہتر شواہد کے ساتھ اکٹھا کرکے آنلائن جمع کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف لاپتہ افراد کا مسئلہ درپیش نہیں بلکہ ماورائے عدالت قتل، نسلی بنیاد پر پروفائلنگ، ڈیتھ اسکواڈز کی شکل میں جبر اور وحشت، معاشی حوالے سے بلوچوں کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے کی پالیسی  سمیت مختلف مسائل کا سامنا ہےجن پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔    


حکیم بلوچ نے کہا کہ اس وقت اداراتی بنیاد پر سنجیدہ اتحاد و اتفاق اور جدوجہد کی ضرورت ہے تاکہ ہم لاپتہ افراد کے سنگین مسئلے پر ریاست کو پریشرائز کر سکیں۔ ایک ایسے وقت میں جب بلوچستان بھر سے لوگ جبری طور پر گمشدگی کا شکار ہو رہے ہیں ہمیں ایک مضبوط آواز اور قوت بن کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں کے اپنے مفادات ہیں ایسا نہیں کہ پاکستان کی غیر انسانی کارروائیو ں کے حوالے سے دنیا آگاہ نہیں یا بلوچ سیاسی و انسانی حقوق کے اداروں نے انہیں بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے حوالےسے آگاہی نہیں دی ہے لیکن یواین سمیت جتنے بھی عالمی ادارے ہیں ان کے پاکستان کے ساتھ اپنے مفادات موجود ہیں  جب مغرب کے مفادات کی خلاف ورزی ہو رہی ہو تو تب ان اداروں کی جانب سےسخت ایکشن لیا جاتا ہے۔   


لاپتہ ظہور احمد کی بہن  بانک سعدیہ بلوچ نے کہا کہ میرے خیال سے بطور ایک متاثرہ میں سمجھتی ہوں کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ کسی ایک گھر کا یا ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ بلوچوں کو بطور قوم  اس المیے کا سامنا ہے جبری گمشدگیوں کا واقعہ آج سے یا بیس سال سے نہیں بلکہ 1971 میں بلوچ خواتین کو فورسز کی جانب سے جبری طور پر لاپتہ کرکے لاہور اور دیگر شہروں میں جانوروں کی طرح بیچا جاتا تھا گوکہ اس میں شدت کے ساتھ اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا آج میری بھائی ظہور احمد سمیت ذاکر جان اور ہزاروں کی تعداد  میں بلوچوں کو جبری طور پر لاپتہ کرکے سلاکوں کے پیچھے بند کیا گیا ہے اور ان کے حوالے سے کوئی خبر تک نہیں۔ انہوں نے کہا ریاست کے بنائے گئے کمیشنز مزاق کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں اور نا ہی انہیں مینڈیٹ حاصل ہے وہ بس دنیا کو دیکھانے کیلئے ان کمیشنز کا قیام کرتے ہیں تاکہ دنیا کو یہ دیکھا سکیں کہ ہم مسنگ پرسنز پر کام کررہے ہیں۔  


اس سلسلے میں کیچ کے مرکزی شہر تربت سمیت مختلف علاقوں میں پمفلٹنگ بھی کی گئی اور ٹوئٹر کمپین بھی چلا گیا ہے جس میں لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post