جعلی مقابلہ میں مارے جانے والے شخص کی شناخت جبری لاپتہ ناصر قمبرانی کے طور پر ہوگئی



شال دو سال قبل کاونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں مارے جانے کے بعد لاوارث قرار دیکر دفنائے گئے نعش کی شناخت جبری لاپتہ بلوچ نوجوان ناصر قمبرانی  کے نام سے ہوگئی ہے، لواحقین نے نعش کی شناخت کرلی ہے ، جبکہ تدفین آبائی علاقے میں کی جائے گی۔


ذرائع کے مطابق مزکورہ نوجوان کو  جنوری 2021 میں خضدار کے علاقے زہری سے جبری لاپتہ کیا گیاتھا  اور  ایک جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ، جس کے بعد ان کی نعش سول ہسپتال شال منتقل کردیا گیا تھا۔اس وقت نعش کی شناخت نہ ہونے کے باعث اسے  لاوارث قرار دیکر شال سے متصل مستونگ کے علاقے دشت تیرہ میل قبرستان میں دفن کردیا کیا گیا۔


ذرائع کے مطابق نوجوان کے ورثاء نے معلومات ملنے پر قبر کشائی کرکے نعش کو آبائی علاقے زہری منتقل کیا ،جہاں آج اسکی تدفین کرکے نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔


ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے 30 اگست 2021 کو ڈی سی خضدار اور ڈی سی آواران کو  لیٹر ارسال کیا تھا ، جس میں بتایا گیا تھا کہ ناصر فاروق ولد غلام فاروق سکنہ محلہ صادق آباد زہری مارا گیاہے۔ 


جبکہ اسی لیٹر میں مزید تین افراد غلام جان ولد باران سکنہ بائی پاس شال، عبدالقیوم ولد زہری خان سکنہ زہری خضدار،اور  کمال خان ولد باہوٹ سکنہ چکی آواران کے مارے جانے کا لکھا گیا تھا۔


اسی لیٹر میں لکھا گیا تھا کہ مذکورہ افراد کو لاوارث قرار دیکر ایدھی کے ذریعے تدفین کی گئی ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post