بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5069 دن ہوگئے۔
اظہارِ یکجہتی کرنے والوں میں شال سے سیاسی اور سماجی کارکنان در محمد ، امام بخش اور دیگر نے شرکت کی۔
اس موقع پر وائس فار بلوچ مسئنگ پرسنز وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ قابض اور طاقتور کے پاس طاقت استعمال کرنے کی قدرت ہے جسے وہ بھرپور استعمال میں لا رہا ہے۔
انھوں نے کہاہے کہ بلوچوں پر ریاستی جبر کی داستان طویل اور دکھ بھری ہے، لیکن بلوچ نے بھی پر امن مزاحمت جاری رکھاہوا ہے، ہر قسم کی جبر کے خلاف کھڑے رہے ہیں، جب باپ شہید ہوتا ہے تو اسکا بیٹا اور جب اس جبر کے خلاف جدوجہد میں بیٹا شہید ہوتا ہے تو باپ میدان میں آجاتا ہے یہ جدوجہد طویل ہے -
ماما قدیر بلوچ نے کہا ہےکہ آج پاکستان کی قوت اس زمانے کے بنگلہ دیش کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے، بلوچستان میں جبر کی تاریخ بھی لمبی ہے، بلوچ قوم پہ تاریخ کا بدترین انسانی حقوق کے پائمالیاں پاکستانی ریاست کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہاہے کہ بلوچ نسل کشی میں سینکڑوں مسخ شدہ نعشیں پھینکی گئی ہیں اور اب تک ہزاروں جبری لاپتہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ طالبعلم رہنما اور بی ایس او آزاد کے سابقہ وائس چیئرمین زاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو 14 سال کا طویل عرصہ اسی 8جون کو مکمل ہو رہا ہے، اسکی والدہ گزشتہ چودہ سالوں سے اپنے بیٹے کی بازیابی کیلئے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں ، انہوں نے اسی دن احتجاج کیلئے کال دی ہوئی ہیں، جس میں ہم تمام انسان دوست خواتین اور حضرات سے اپیل کرتے ہیں کہ ساتھ دیں،اور زاکر مجید سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز اٹھائیں -
