کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ نے مبینہ طور پر دوسال قبل مقابلے میں تین افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جن میں سے آج دو سرے شخص کی شناخت پہلے سے زیر حراست جبری لاپتہ عبدالقیوم زہری کے نام سے ہوئی ہے جسے نومبر 2020 میں حب چوکی سے پاکستانی فورسز ایف سی کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔
عبدالقیوم زہری ولد زہری خان کے لواحقین کے مطابق انھیں آج بذریعہ میڈیا اطلاع ملی ہے کہ عبدالقیوم کی نعش لاوارث قرار دینے کے بعد دفنا دیا گیا تھا-
لواحقین کے مطابق انھیں نومبر 2020 کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے حب چوکی سے حراست میں لینے کے بعد اپنے ہمراہ لے گئے تھے جس کے بعد سے وہ لاپتہ تھے۔
آپ کو علم ہے گذشتہ روز جنوری 2021 میں خضدار کے علاقے زہری سے جبری لاپتہ ناصر جان قمبرانی کے لواحقین نے اطلاع ملنے پر انکے قبر کشائی کے بعد نعش آبائی علاقہ زہری منتقل کرکے دفنا دیاتھا ۔جنھیں کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے 30 اگست 2021 کو جعلی مقابلے میں ھلاک کرکے بعد ازاں ڈی سی خضدار اور ڈی سی آواران سمیت دیگر حکام کو ایک لیٹر ارسال کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ناصر فاروق ولد غلام فاروق سکنہ محلہ صادق آباد زہری، غلام جان ولد باران سکنہ بائی پاس کوئٹہ، عبدالقیوم ولد زہری خان سکنہ زہری خضدار، کمال خان ولد باہوٹ سکنہ چُکی آواران ایک مقابلے میں مارے گئے ہیں۔
آپ کو علم ہے شہید عبدالقیوم اور شہید ناصر جان سمیت سینکڑوں بلوچ فرزندوں کو پاکستانی فورسز شہید کرکے دشت تیرہ میل میں لاوارث قرار دیکر تدفین کردیاہے ۔
اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔
ان لاوارث قرار دیئے جانے والے بلوچ فرزندوں کے بارے بلوچ نیشنل موومنٹ، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز سمیت دیگر سیاسی و سماجی حلقے اکثر چیخ پکار کرتے رہتے ہیں کہ مذکورہ نعشوں میں اکثریت جبری طور لاپتہ افراد کی ہیں ، جن میں سے کئی نعشیں مسخ شدہ حالت میں ہسپتالوں میں لائے جاتے ہیں ۔
دوسری جانب قابض حکام نعشوں کی شناخت کیلئے ڈین این اے سمیت دیگر طریقہ کار کو نظرانداز کرکے انھیں انکے اہلخانہ سے چھپاکر لاوارث قرار دیتے ہیں حالانکہ قیوم اور ناصر کی طرح کوئی لاوارث نہیں ہے ۔
