غیرت کے نام پر قتل عام روکنے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے، سیمینار میں مقررین کا خطاب



شال بلوچستان میں غیرت کے نام پر بڑھتے ہوئے قتل عام کی روک تھام میں مذہبی قبائلی سیاسی اور سول سوسائٹی کی ذمہ داریاں اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔  اور قومی ڈائیلاگ کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر فوری طور پر عمل کر کے اس کے تدارک کو یقینی بنایا جا سکتا ہے  ” عورت فانڈیشن بلوچستان اور ٹوڈیز ویمن آرگنائزیشن “کے زیر اہتمام بلوچستان ویمن بزنس ایسوسی ایشن، پریس کلب شال اور بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیس آف ویمن کے اشتراک سے منعقدہ تقریب سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا  اس موقع پرعورت فانڈیشن کی جانب سے بتایا گیا کہ بلوچستان  میں گزشتہ5 سال میں خواتین پر تشدد کے 542 واقعات میں 354 افراد قتل ہوئے جن میں 303 خواتین قتل ہوئیں ،جس میں 149 خواتین اور 51 مرد غیرت کے نام پر قتل ہوئے شرکاءکو بتایا گیا کہ  عورتوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کیخلاف پالیسی ترتیب دینے اور قوانین مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔


مقررین نے کہا کہ عورتوں کے خلاف تشدد ایک خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، انھوں کہاکہ اس سیمینار کا  مقصد  عورتوں پر تشدد کیخلاف واقعات کی نشاندہی کرنا اور معلومات اور مدد کیلئے ماحول اور سماجی دباﺅ پیدا کرنا ہے ، اس لئے مستقبل میں بننے والی پالیسیوں کے حوالے سے اعداد و شمار کے توسط سے قانونی اصلاحات کو یقینی بنایا جائے۔


  انھوں نے کہاکہ بلوچستان میں ہر دوسرے دن ایک عورت غیرت کے نام پر قتل یا تشدد کا نشانہ بنتی ہے اور آئے روز خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور غیرت کے نام پر قتل یا تشدد کے زیادہ تر واقعات نصیر آباد میں رپورٹ ہوئے جبکہ تشدد کے واقعات میں شال دوسرے نمبر پر ہے۔ 


مقرر ین کا کہنا تھا کہ گزشتہ 75 سال سے ہم نے عورت کو انسان نہیں سمجھا تشدد کا نشانہ بنایااور ہر وقت اس کااستحصال ہوتا رہا۔ غیرت کے نام پر قتل کی رسم ملک بھر میں ہوتی ہے سندھ کے دیہی اور قبائلی علاقوں میں غیرت کے نام پر قتل کو ،کارو کاری خیبرپختونخوا میں ‘تور تورا’، بلوچستان میں ‘سیاہ کاری’ اور پنجاب میں ‘کالا کالی’ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ غیرت کے نام پر جرائم پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں تاہم بہت سے اسلامی ممالک میں سماجی اور ثقافتی اصولوں کی خلاف ورزیوں پر خاندان کے افراد کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل بھی عام بات ہے ۔ اگرچہ دنیا بھر میں مجرمانہ طور پر سزائیں دی جاتی ہے لیکن اس طرح کے قتل کو اکثر خاندان والے مذہب کی بنیاد پر جائز قرار دیتے ہیں اور شاذ و نادر ہی سزا دی جاتی ہے یہاں تک کہ جب سزائیں دی جاتی ہیں تو سزائیں عام طور پر ہلکی ہوتی ہیں قصاص اور دیت کے اصولوں کا وجود متاثرین کے قانونی ورثا کو خون کی رقم کے عوض مجرموں کو معاف کرنے کے قابل بناتا ہے پاکستان خصوصا بلوچستان بھی اس معاملے میں مستثنیٰ نہیں رہا ہر سال ملک بھر میں سینکڑوں افراد خاص طور پر خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔  جرائم کے پھیلا ﺅکے باوجود ہلاکتوں کی صحیح تعداد کے بارے میں کوئی درست اور قطعی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق، 2004 سے 2016 تک پاکستان بھر میں غیرت کے نام پر قتل کے تقریبا 15222 واقعات رونما ہوئے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post