بلوچستان میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر ریاستی میڈیا کبھی بھی سر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ ماما قدیر بلوچ



کوئٹہ: بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5038 دن ہوگئے

کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بی ایس او پجار کے چیئرمین زبیر بلوچ ،کراچی لیاری سے امید علی بلوچ، مرتضیٰ بلوچ نے شرکت کی 

جبکہ دبئی سے جبری لاپتہ راشد حسين کی والدہ اور دیگر لواحقین بھی کیمپ میں موجود رہے 

راشد حسین کی والدہ اپنے بیٹے کی بازیابی کیلئے مسلسل احتجاجی پروگرامات کا حصہ بنے ہیں، اور ان کا یہی سادہ سا مطالبہ رہا ہے کہ اسکے بیٹے کو منظر عام پر لایا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے 

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کا آغاز پاکستانی ریاست کے جبری قبضے کے ساتھ ہی ہوا تھا جو آج بھی تسلسل سے جاری ہے۔ اس طویل فوجی اپریشن میں لاکھوں کی تعداد میں بلوچ فرزندان کو شہید کیا گیا ہے جبکہ ہزاروں لوگوں کو ریاستی عقوبت خانوں میں غیر انسانی اور غیر اخلاقی تشدد کا نشانہ بناکر شہید کیا گیا۔ بچے خواتین بوڑھے جوان سب ہی ریاستی بربریت کا نشانہ بنے حتیٰ کہ خواتین نے پیٹ میں پلنے والے حمل بھی اس درندگی سے محفوظ نہ رہ سکے بلوچ ریاست پر اس 75 سالہ قبضے میں پاکستانی ارمی خفیہ اداروں نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے جو تاریخ میں انمنٹ ہوگے بلوچ ابادیوں ڈھیرا بگٹی کوہلو آواران بولان پر فضائی کارپٹ بمبارمنٹ سے لیکر پینے کے پانی کے جوہڑوں میں زہر بھرنے فضا میں کیمیکل اسپرئے سمیت لوگوں کی ہیلی کاپٹروں کے زدیعے نیچے پھینکے جانے کے انسانیت کو شرما دینے والے ہر وہ عمل کا مرتکب ہوا جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی اپریشن سے بلوچوں کو جبری لاپتہ کرنے اور ان کی مسخشدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکنے کے ریاستی قتل میں اس قدر تیزی لائی گئی ہے۔ کہ بلوچستان میں ایک خوف لاماحول نے جنم لیا۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کی ان انسانیت سوز پالسیوں سے ریاستی میڈیا کبھی بھی سر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ اور نہ کبھی بھی یہ سوچنا گوارہ کیا کہ بلوچستان بلوچوں پر یہ مظالم کیوں کرڈھائے جا رہے ہیں۔ کوہلو ڈیرہ بگٹی کے علاقوں میں فضائی بمبارمنٹ کا آغار کردیاگیا۔ جہاں متعدد بچے خواتین بوڑھے جوان سمیت مال مویشیاں بھی ہلاک ہوگئیں۔ کئی گھرانے نزداتش کردئے گئے۔ اور یہ سلسلہ ہنوزجاری ہے روزانہ بلوچوں کو جبری لاپتہ شیرخوار بچے خواتین کی ہلاکت کی خبریں آرہی ہیں.

Post a Comment

Previous Post Next Post