گلزار امام کی گرفتاری میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں سے زیادہ بلوچ آزادی کی تحریک سے جڑے افراد کا ہاتھ ہے انھیں دھوکہ دے کر گرفتار کروایا گیا ۔بی این اے



بلوچ نیشنلسٹ آرمی  بی این اے کے ترجمان مرید بلوچ نے جاری بیان میں کہاہے کہ بی این اے  قوم پر واضع کرتی ہے کہ گلزار امام کی گرفتاری میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں سے زیادہ بلوچ آزادی کی تحریک سے جڑے افراد کا ہاتھ ہے ۔


انھوں نے کہاہے کہ گلزار امام 3 مئی سال 2022 کو ترکی سےگرفتار ہوئے۔  گلزار امام کی گرفتاری کے بعد تنظیم نے اپنے اتحادی تنظیموں کو آگاہ کیا مگر کوئی  خاطر خواہ جواب  نہیں دیا گیا جس کے بعد بی این اے نے فیصلہ کیا کہ  اتحادی تنظیموں کو بطور لیٹر اپیل کریں گے  اور انھوں نے خط لکھا جس میں گلزار امام کی گرفتاری بارے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر اس کی چھان بین کی اپیل کی ۔   مگر افسوس کہ اتحادی تنظیموں نے تحقیقات اور مدد کرنے کے بجائے بی این اے کے سرمچاروں کو اپنی تنظیموں میں بھرتی کرنا شروع کیا اورتنظیم کو ایک مزید بحران میں مبتلا کیا جو کہ بلوچ آزادی کی تحریک میں ایک بہت بڑا نقصان ہے اور یہی رویہ اب بھی بی این اے کے ساتھ رواں رکھا جارہا ہے۔ 


ترجمان نے کہا ہے کہ بی این اے اب  بھی اتحادی تنظیموں سے اپیل کرتی  ہے کہ بی این اے کو ختم کرنے کی پالیسی کو ترک کرکے ان واقعات کا ازالہ کرکے اپنے اندر کالی بھیڑوں کو بے نقاب کریں۔


انھوں نے کہاہے کہ بی این اے  یہ خدشہ ظاہر کرتی ہے کہ ناپاک ریاست پاکستان گلزار امام کو ایک سال سے گرفتاری کے دوران تشدد کے بعد برین واش کرکے ان سے جھوٹے الزامات کے زریعہ ایک پروپکنڈا مھم شروع کرے گی۔ 


انھوں نے کہاہے کہ بی این اے  جب ضرورت محسوس کرےگی ان تمام واقعات پر ایک تفصیلی رپورٹ جاری کرے گی۔ 


بی این اے یہ  عہد  کرتی ہے کہ اپنے آخری سرمچار تک بلوچستان کی آزادی کیلے جدوجہد کرتی رہے گی اور کسی قسم کے قربانی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post