بلوچستان میں مہنگائی اور فورسز کی جانب سے بارڈر کی بندش، عوام کئی مسائل کا شکار ہیں، عوامی حلقے

 


شال:  پاکستان کے معاشی بحران کی وجہ سے مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور دوسری طرف پاکستانی فورسز کی جانب سے مختلف علاقوں میں بارڈر بند کرنے کی وجہ سے عوام کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے.


علاقائی ذرائع نے ریڈیو زرمبش کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے  کہ ایک طرف مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے تو دوسری طرف پاکستانی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال اور بارڈر بند کرنے کی وجہ سے لوگ بے روز گار ہیں .


انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے متعدد علاقوں کے عوام کا روزگار بارڈر سے جڑا ہوا ہے، لیکن جب سے فورسز نے بارڈر بند کیا ہے عوام روٹی کے نوالے کے لئے ترس رہے ہیں.


انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں بارڈر  کھول کر ٹوکن سسٹم رائج کیا گیا ہے ، وہاں کے لوگ زیادہ مسائل کا سامنا کررہے ہیں.ٹوکن فورسز کے مقامی آلہ کاروں کے ہاتھوں میں ہیں ، جو ایک ٹوکن بیس ہزار میں فروخت کررہے ہیں جو عوام کے ساتھ سراسرظلم ہے.


انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے نام نہاد وزیر اور ممبران اسمبلی اور مقامی عہدیداروں کو کچھ پرواہ نہیں ہے کیونکہ وہ خود ٹوکن سسٹم میں برابر کے شریک ہیں .


انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے متعدد علاقوں کے عوام کی معاشی امید بارڈر سے وابسطہ ہے ،اگر بارڈر کو نہیں کھولا گیا تو عوام بھوک سے مرجائیں گے .


علاقائی عوام نے بلوچ سماجی تنظیموں،سیاسی تنظیموں ،سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ہماری آواز بنیں اور سوشل میڈیا میں ہمارے لئے آواز بلند کریں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post