بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چئیرمین جہانگیرمنظور بلوچ نے ریکوڈک پر بلوچستان اور پاکستانی وفاقی خودساختہ قانون سازی کو بلوچ وسائل کی لوٹ مار کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ راتوں رات بل پاس کرکے اٹھارویں آئینی ترمیم اور بلوچستان کے حقوق پر شب خون مارا گیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ بلوچ وسائل کی لوٹ مار سمیت قدرتی وسائل کی نیلامی کا سلسلہ حکمرانوں کی منصوبہ بندی ہے ، جس کا مقصد بلوچستان کے لوگوں کا اختیار اور حق حاکمیت چھین کر انہیں قومی وسائل سے دستبردار کرانا ہے ۔ جسے مسترد کرتے ہیں۔
انھوں نے کہاہے کہ پاکستان نے ہمیشہ بلوچ کی منشا کے بغیر پالیسی سازی کرکے وسائل کو لوٹا ہے۔ اب بھی بیرونی استحصالی کمپنیوں کے ذریعے بلوچستان کے معدنی دولت کو نیلام کیا جارہا ہے۔
چئیرمین بی ایس او نے مذید کہا ہے کہ ترقی اور خوشحالی کاسبز باغ دکھا کر گوادر کو چائنہ کے حوالے کردیا گیا جبکہ سیندک،
ریکوڈک،سوئی گیس سمیت بلوچ سرزمین سے نکلنے والی معدنیات کے بدلے بلوچ قوم کو صرف بھوک اور افلاس دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ گوادر میں چائنہ کے ساتھ سرمایہ کاری ہورہی ہے لیکن وہاں کے لوگ پانی کو ترس رہے ہیں۔
اسی طرح انیس سو باون سے سوئی سے گیس نکالی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب وہاں کے لوگ آج بھی لکڑیوں سے آگ جلاتے ہیں۔ سیندک اور ریکوڈک سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے وہاں رہنے والے لوگوں کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا گیا ہے۔
چئیرمین بی ایس او نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں سیندک کے حوالے سے حکمرانوں کی قانون سازی لوٹ مار کو وسعت دینے کا ایک حربہ ہے ، جس سے بلوچ عوام بخوبی واقف ہیں۔
انھوں نے کہاکہ کھٹ پتلی قدوس حکومت کے ذریعے راتوں رات بل پاس کروا کر قانون سازی کی گئی اور سب کچھ وفاق کے حوالے کیا گیا۔ یہ معاہدہ نہ صرف ناقابل قبول ہے ، بلکہ ملک میں جمہوریت کا راگ آلاپنے والوں کیلئے باعث شرمندگی بھی ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ ریکوڈک معائدہ بلوچ قوم کو مذید پسماندہ رکھنے اور قومی ملکیت پر قبضہ گیری کو مذید دوام بخشنے کا ایک منصوبہ ہے جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔
دریں اثناء چئیرمین بی ایس او نے بی این پی کی جانب سے 18 دسمبر کوبلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے تنظیم کے تمام زونوں کو تاکید کی ہے کہ احتجاجی مظاہروں میں شرکت کریں۔
