بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ اوتھل لومز یونٹ کی جانب پمفلٹ بعنوان طلباء کے حقوق اور انتظامیہ کی زمہ داریاں, کے عنوان سے تقسیم کی گئی ،جس میں لکھاہے ہے
کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشخال بغیر تعلیم کے ناممکن ہے، اگر قوم کے نوجْوان تعلیم کے میدان میں پسماندہ ہو تو وہ اس جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکتی۔
تعلیم کے زریعے قوم کے نوجْوان خواب سے بیدار ہو کر انکے اندر شعور و آگاہی پیدا ہوتی ہے، جب قوم کے نوجْوان تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوئے اور ان میں شعور بیدار ہوئی تو انہیں دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دیتی،
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج بلوچ قوم کے نوجوان اپنے دل میں مختلف خواب سجھائے اپنے علم کے پیاس کو بجانے کیلئے مختلف تکالیف اور مشکلات کو سہتے ہوئے دور دراز علاقوں سے ہوتے ہوئے بڑے شہروں میں تعلیم کے حصول کیلئے آتے ہیں ، لیکن بدقسمتی سے یہاں انہیں تمام تر بنیادی تعلیمی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے،
جب تعلیمی اداروں میں طلباء کو انکے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جائے تو وہ اپنے تعلیمی معیار کو کبھی بھی بہتر نہیں کرسکتی کیونکہ پڑھائی کیلئے جب تک سہولیات اور پرسکون ماحول میسر نہ ہو تو طلباء زہنی مسائل سے دو چار ہوکر تعلیم کے تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتی، اپنے حقوق کے حصول کیلئے آواز اٹھانا ہر ایک طالب علم کیلئے فرض ہے۔
پمفلٹ میں لکھا گیا ہے ہم جتنا خاموشی اختیار کریں گے تو اتنا ہی ہمارے بنیادی حقوق کو سلب کیا جائے گا۔ اپنے حقوق کے حصول کیلئے طلباء کو ہّ فورم پر آوز بلند کرنا پڑے گا۔
آپ سب کو معلوم ہے کہ لسبیلہ یونیورسٹی انتظامیہ کی اقرباپروری، غفلت نے طلبا کو انکے بنیادی سہولیات اور تعلیمی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے انہیں مختلف مسائل درپیش ہیں۔ لوڈ شیڈنگ، بوائز اور گرلز ہاسٹل کے مسائل، اسکالرشپس پر من پسند لوگوں کی اجارہ داری اور دیگر کئی مسائل زیر غور ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ طلباء کی معاشی حالت کو نظر انداز کرتے ہوئے ایڈمیشن سمیت بی ایس اور ایم فِل کی فیس میں اتنا اضافہ کیا گیا ہے جنکی وجہ سے غریب اور تنگ دست طلباء انتہائی پریشان ہیں اور زیادہ تر نوجْوانوں کو اپنے تعلیمی عمل کو ترک کرنا پڑ رہا ہے۔
اسکالرشپس خاص کر Need Base Scholarship اس لئے دیئے جاتے ہیں تاکہ ضرورت مند طلباء کی معاشی کمک و امداد ہوسکے ، لیکن بدبختی سے یہاں اقرباء پروری اور سفارشی ماحول میں اسکالرشپس پر اشرافیہ اور جاگیردار لوگ قابض ہیں، حتیٰ کے اسکالرشپس کچھ ایسے امیر طلباء کو مل رہے ہیں جن کے والد یونیورسٹی ہی میں بڑے اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، جو کہ غریب طلباء کے ساتھ سراسر ظلم و زیادتی کے مترادف ہے۔ اگر اکہ دکا چند طلباء کو اسکالرشپ ملتی ہے تو ان کے چیکس کو بوقت نہیں دیا جاتا۔
یونیورسٹی میں انتظامی سرگرمیاں اتنی سست روی کے شکار ہیں کہ چیک وصول کرنے کیلئے مہینے درکار ہوتے ہیں، یونیورسٹی انتظامیہ اپنے انتظامی سرگرمیوں میں بالکل لاتعلق نظر آ رہے ہیں جن کا خمیازہ غریب طلباء کو مختلف صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
بی ایس ایف کے پمفلٹ میں لکھا گیاہے کہ ہاسٹل میں صحت و صفائی کا انتظام نہ ہونے کے برابر ہے،اسکے علاوہ ہاسٹل میس میں طلباء کو غیرمعیاری کھانا دی جا رہی ہے، فوڈ اتھارٹی کی جانب میس کے کھانوں کو چیک کرنے کیلئے اب تک فوڈ سیفٹی ٹیم نہیں بیجھی گئی ہے، جن کی وجہ سے سفوف گیسٹرک، گیسٹرک السر، اور دیگر امراض سے طلباء کے صحت پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، فوڑ اتھارٹی کو چاہئے کہ وہ ہاسٹل میس کے کھانوں کو چیک کرنے کیلئے فوڈ سیفٹی ٹیم بھیجے تاکہ طلباء کو معیاری کھانا دستیاب ہو۔
اسکے علاوہ اولڈ ہاسٹل کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے، وہاں نہ میس کا انتظام ہے اور نہ ہی انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے، جنکی وجہ سے طلباء بہت پریشان ہیں بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ اوتھل یونیورسٹی قیادت کی جانب سے انتظامیہ کو کئی مرتبہ آگاہ کی جاچکی ہے لیکن اب تک ان پر کوئی عمل درآمد نہیں کی گئی ہے۔
،یونیورسٹی انتظامیہ اولڈ ہاسٹل میں میس اور انٹرنیٹ کی سہولیات جلد از جلد فراہم کرے تاکہ اس جدید دور میں طلباء انٹرنیٹ کے فوائد سے محروم نہ ہو، اسکے علاوہ گرلز ہاسٹل میں بھی معیاری کھانے دستیاب نہ ہونے کے ساتھ ساتھ کھانے کی ریٹ کو بڑھا دی گئی ہے، اور طالبات کو ماہانہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر کھانے دی جاتی ہیں، بغیر کنٹریکٹ کے انہیں کھانے دینے پر پابندی عائد ہے دوسری جانب انہیں سیلف کوکنگ کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، معیاری کھانے کی عدم دستیابی اور باہر کے کھانے لانے کی پابندی پر طالبات شدید زہنی کوفت میں مبتلا ہیں۔
یونیوسٹی ہاسٹل انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ طالبات کے کھانے پینے کی اشیاء پر پابندی کو ہٹا کر انہیں سیلف کوکنگ کی اجازت دی جائے اور کنٹریکٹ کی شرط کو ختم کرنا چاہئے ان میں جو طالبات بغیر کنٹریکٹ کے میس میں کھانا چاہتی ہے تو انہیں میس کے کھانے مہیا کی جائے۔
پمفلٹ میں تمام شعبہ جات کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاگیاہے آ پ کو معلوم ہے کہ لسبیلہ یونیورسٹی میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں طلباء زیر تعلیم ہیں لیکن بدبختی سے یہاں نہ پروفیشنل ڈاکٹرز موجود ہیں اور نہ ہی ادویات دستیاب ہیں۔ ہیلتھ کیئر سینٹر کا برائے نام کی ایک عمارت تو موجود ہے لیکن وہاں طلباء کا کوئی علاج نہیں ہو رہا ہے، مجبوراََ طلباء کو اوتھل کے سیول ہسپتال میں جانا پڑتا ہے۔
بجلی بھی بنیادی اور اہم ضروریات میں شمار ہوتا ہے، لیکن ہفتے میں تین تین دن تک لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے، حالانکہ جرنیٹر چلانے کیلئے یونیورسٹی کو ڈیزل فراہم کی جا رہی ہے لیکن پتہ نہیں ڈیزل کہاں استعمال ہو رہے ہیں، یونیورسٹی میں لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنا چاہئے، اسکے علاوہ سنٹرل لائبریری سمیت تمام ڈیپارٹمنٹ میں واٹر کولر دستیاب نہیں، ڈی وی ایم اور ایجوکیشن میں برائے نام کے واٹر کولر تو موجود ہیں لیکر ان میں فلٹر سسٹم نہیں لگائی گئی ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کو سنٹرل لائبریری سمیت تمام ڈیپارٹمنٹ میں واٹر کولر لگانی چاہئے۔ اسکےعلاوہ یونیورسٹی میں صرف ایک بینک تعمیر کی گئی ہے جن میں ایک اے ٹی ایم موجود ہو جو بیشتر اوقات میں نان فنکنشل ہے، اے ٹی ایم سسٹم کو مکمل طور پر بحال کیا جائے۔
پمفلٹ میں کہاگیا ہے کہ تمام مسائل ہمارے مشترکہ مسائل ہیں جنکے حل کیلئے ہمیں عملی طور پرجدوجہد کرنا پڑتا ہے۔ اور بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ بلوچ طلباء کی آواز بن کر ہر فورم پر قوم کے نوجوانوں کی آواز کو توانا بخش بناکر انکے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔
شکریہ