کیچ الندور میں رات گئے نامعلوم افراد نے ایک اسکول کو جلا دیا

کیچ الندور میں تعلیم دشمن عناصر نے رات گئے 3 بجے کے قریب کلکشان سکول الندور بلیدہ کو آگ لگاکر جلا دیا۔ علاقائی مکینوں کا کہناہے کہ الندور بلیدہ میں بدامنی کے آثار نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں ۔ سماج دشمن عناصر تعلیمی اداروں کو نشانہ بناکر علاقے میں منفی سرگرمیوں اور مزموم عزائم سے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم تعلیمی پسماندگی کو دور ہونے نہیں دیں گے۔ سیاسی سماجی حلقوں نے اسکول جلائے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ آپ جانتے ہیں اس سے قبل مکران میں غیر سرکاری اسکول چلانے والے ایک استاد کومذہبی شدت پسندوں نے ھلاک کردیا تھا جس کا گناہ یہ تھا کہ انھوں نے پنجگور ،تربت اور گوادر میں غیر سرکاری اسکول کھلواکر بچوں کو پڑھا رہے تھے ۔ اس کے علاوہ پنجگور ،میں بھی پرائیویٹ اسکول پر حملے کرنے علاوہ اسکولیں بند کرنے کیلے پمفلٹ سرکاری ایجنسیوں کی سرپرستی میں مذہبی شدت پسند تنظیموں نے تقسیم کرکے اسکولز بند کرنے کی دھمکیاں دی تھیں ۔ اب الندور میں بھی پرائیویٹ اسکول کو جلاکر وہی پیغام دھرایا گیا کہ وہ بلوچ طلباء طالبات کو پڑھنے نہیں دیں گے ۔ علاقائی لوگوں کا کہناہے کہ اکثر سرکاری اسکول اور کالجز فوجی کیمپوں اور چوکیوں میں تبدیل کردیئے گئے ہیں، جو بچے کچھے اسکول ہیں ان میں تعلیمی معیار یہ کہ جو استاد طلباء کو صحیح پڑھانے کی کوشش کرے انھیں لاپتہ کردیا جاتاہے ،یا اساتذہ کیلے یہ حکم ہے کہ بس اسکول میں بیٹھ کر طلباء کو شور شراب کرنے سے روکے رکھیں تاکہ ان کا ٹائم پورا ہو۔ اگر کسی نے صحیح معنوں میں تعلیم دینے کی کوشش کی تو اٹھا لئے جائیں گے یا دور دراز علاقوں میں ہر ایک دو ماہ تبادلہ کروائیں دیئے جائیں گے ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post