بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4791 دن ہوگئے.
اظہار یکجہتی کرنے والوں میں ایچ آر سی پی لاہور کے مرکزی کونسل کے ممبر حسین نقوی، ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ماہین پراچہ، ایچ آر سی پی بلوچستان کے حبیب طاہر، فرید شاہوانی، صحافی اکبر نوتیزئی اور دیگر شامل تھے .
اس موقع پر وفد سے بات چیت کرتے ہوئے وائس فار بلوچ مسئنگ پرسنز وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا ہے کہ ماہِ اکتوبر کے شروع کے دنوں میں ہی پاکستانی فورسز نے بلوچ سرزمین کو اس کے فرزندوں کے خون میں نہلا کر آغاز کیاگیا ۔
انھوں نے کہاکہ اس ماہ کی ابتدا کی ڈیرہ مراد جمالی سے چار جبری لاپتہ افراد کو دہشت گرد قرار دیکر جعلی مقابلوں میں شہید کر دیا گیا، پاکستانی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لیکر فوجی کارروائی شروع کر دی جن کے ساتھ ڈیتھ سکواڈ کا دستہ بھی شامل تھا۔
انھوں نے کہاکہ تہذیب سے عاری پاکستان کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنے نا جائز قبضے کو برقرار رکھنے اور مقبوضہ اقوام کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کو جاری رکھنے کے لیے کسی بھی طرح کے غیر اخلاقی ہھتکنڈے آزمانے سے دریغ نہیں کرتے تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی فورسز نے بنگالی عورتوں بچوں کے ساتھ کے ساتھ کیا اور بوڑھوں کے قتل عام اور ہزاروں بنگالی عورتوں کی عصمت دری جیسا شرمناک عمل کرنے کے بعد بھی وہ بنگلہ دیش کو فتح نہیں کر سکے آخر کار تاریخ کا بے رحم پھندا ان کے اپنے گلے میں آن پڑا۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا ہے کہ ہزاروں بلوچ فرزند جبری اغواء کئے گئے ہیں وہ پتہ نہیں کس حال میں ہونگے اور کیسی کیسی اذیتیں سہے رہے ہیں ان کی مائیں کس حال میں ہیں ان کی حالت کو وہی ماں جانتی ہے جس کا بیٹا زندان میں ہونے ہو، انہوں نے چوری نہیں کیا اور نہ انہوں نے کسی کا گھر اجھاڑ دیا ہے وہ تو صرف ہماری قومی بقا کی خاطر زندانوں میں بند ہیں ۔
ماما نے مزید کہا ہے کہ بلوچ کو کئی کسی بھی بین الاقوامی طاقت کے مرہون منت نہیں ہے، بلکہ ایک تاریخی جہد مسلسل ہے آج بلوچ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں مذہبی جنونیت فرسودہ قبائلی سوچ گماشتہ سیاسی پارٹیوں کا کردار شامل ہیں۔
انھوں نے کہاکہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچ پرامن جد وجہد میں شامل تمام پارٹیاں اور تنظیمیں جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اصولوں پر عمل کر کے ہی بلوچ ماؤں بہنوں کو ایک بہتر مستقبل دے سکتے ہیں۔
