بلوچ جبری لاپتہ افراد شہداء کے بھوک ہڑتال کیمپ کو 4794 دن ہوگئے ۔
اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بی ایس او کے وائس چیئرمین اشرف بلوچ، سوراب سے سیاسی سماجی کارکنان علی محمد بلوچ نور احمد علی اکبر بلوچ کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز تنظیم وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماماقدیر بلوچ نےکہا کہ آج تک حکومتی اعوانوں میں کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں جس نے جبری گمشدگی کے مسئلے کو سمجھتے ہوئے اس کا بیڑا اٹھایا ہو ،
انھوں نے کہاکہ حکومت اپوزیشن سمٹ قائمہ کمیٹیا برائے انسانی حقوق پارلیمانی کمیٹی سینٹ کے کمیشن وغیرہ نے بھی صرف زبانی جمع خرچ کو کافی سمجھا ، کبھی کوئی مناسب قانون سازی بل کی شکل میں پیش نہیں کی گئی۔ اور نہیں کہاکہ یو این چارٹر منظور کیا جائے ۔
اور کوئی سربراہ مملکت ،یا کسی حکومتی ادارے یا سیاسی پارٹی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ جبری اغوا شدہ بلوچوں کے لواحقین کے اوپر اس واقعہ کے بعد کیا قیمتیں گزر رہی ہوگی ۔
وہ کس مصیبت سے سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے ہیں ۔
ا س سلسلے میں ملک صدیقی نے کہاں تھا کہ ملک میں باقاعدہ قانون موجود ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے فورس ایجنسیوں کے قبضہ سے جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جاسکتا ہے انہوں نے مزید کہا تھا کہ 1957 میں نے خود شاہدہ عباسی کیس میں فیصلہ دیا تھا کہ ِخفیہ اداروں کو عدالتیں عظمی طلب کرسکتی ہے ان اداروں کے خلاف مقدمہ بھی چلایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت پاکستان جبری لاپتہ افراد کے بارے میں بنایا جانے والے جسٹس کمال منصور کمیشن کے فیصلے کو سامنے لایا جائے تاکہ اصل حقائق کا پتہ چلے ،اب تک جبری لاپتہ افراد کے بارے میں جسٹس کمال منصور کمیشن کے فیصلے سے عوام کو آگاہ نہ کرکے آئین کی ِخلاف ورزی کی جارہی ہے ، ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ جبری لاپت افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے .
