بلوچ جبری لاپتہ افراد شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو کو 4792 دن ہوگئے ہیں آج کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنے والوں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سعدیہ بلوچ ماہ جبین بلوچ اور دیگر شامل تھے وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ خواتین اور مردوں میں جسمانی اور نفسیاتی طور پر فرق پایا جاتا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ مرد فطرتاً عورتوں کی نسبت جسمانی طور پر زیادہ طاقتور اور مضبوط ہوتے ہیں وہ زیادہ معروض پسند ہوتے ہیں ان کے برعکس خواتین ہمیشہ موضوعی اور ذہنی وقار کی مثالی نمائندہ ہوتے ہیں لوگ اسی طرح کی امتیاز کو غلط سمجھتے ہیں جبکہ در حقیقت یہ سب سے زیادہ جارح اور سفاک خیالی جسمانی قوت ہے جس سے وہ طاقتور ہے حقیقی انسانی وقار اور عظمت زور زور سے چیختی نہیں ہے یہ زیادہ طاقتور اور توانا ہے مظبوط اور توانا آواز اندر کا اظہار ہوتا ہے مرد کی فطرت یہ ہے کہ وہ جارعہ تو ہے لیکن ظالم اور بے رحم نہیں ہے اگر مرد اور خواتین کا پوری طرح سے تجزیہ کیا جائے تو دونوں اہلیت کار موجود ہیں، خواتین زندگی کی تمام میدانوں میں بر سر عمل ہیں تاریخ میں انہوں نے نمایاں اور گرانقدر کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچ قوم نازک دور سے گزر رہی ہے ہمیں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چائے، یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر عورت مسلح جدوجہد میں شامل ہو اس کیلئے اور دیگر دیگر میدان اور شعبے بھی خالی پڑی ہیں وہ ایک گھر سے دوسری گھر جاکر قومی بقاکے لئے پیغام دیں انھیں ان کے حقوق اور فرائض کو سمجھنے میں مدد دینا چائے مظاہروں اور جلسوں میں شریک ہوسکتی ہیں وہ دشمن پر نظر رکھ سکتی ہیں انہوں نے مزید کہاں کہ ہماری شاعری میں ایسی خواتین کا ذکر ہے جنہوں نے مادر وطن کی ننک ناموس کے تحفظ کے لئے مردوں کا ساتھ دیا روایات کبھی بھی ان کے راہ حال نہیں رہی ہیں کچھ جاہل اور تنک نظر مرد موضوعی روایات بلوچ ِخواتین پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
