حب : بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ حب زون کی زیر اہتمام بعنوان " سیاسی رویہ" پر ایک اسٹڈی سرکل کا انعقاد کیا گیا۔ جس کے اسپیکر سنگت حمل بلوچ تھے ، انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئِے کہا کہ انسان اپنے زندگی میں مختلف نوعیت کے رویے رکھ سکتا ہے ، کسی بھی انسان کے رویے کے بارے میں ہم اس کے بولنے کے ساتھ تمام سیاسی سرگرمیوں سے انداز لگا سکتے ہیں۔
اس لئے سیاسی کارکنوں کو انقلابی رویے کا مالک ہونا چائِے کسی عام انسان میں ہم خاص رویوں کی امید نہیں رکھ سکتے
سیاسی کارکن کا رویہ قوم دوست اور انقلابی ہونا لازمی ہے، اور ایک سیاسی کارکن خود کو اپنے انقلابی رویہ انقلابی عمل سے ظاہر کرتا ہے کہ وہ کس نظریہ کا مالک ہے اور کس پارٹی سے تعلق رکھتا ہے۔
انھوں نے کہاکہ یہ پارٹی اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے ساتھیوں کو سیاسی انقلابی قومی خدمت کی بنیاد پر نشونما کریں اور اپنے کارکنوں کی ذہن کو اتنا پختہ کریں کہ کارکن اپنی انا اپنی ذاتی خواہشات کو ختم کرکے اپنی قوم کی خدمت کریں۔
ایک سیاسی کارکن کی رویہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور اپنی پارٹی کیلئے کارآمد ثابت ہوتا ہے۔
حمل بلوچ کا کہنا تھاکہ سیاسی پارٹیوں اور سیاست کو عروج دینے کے لیے کارکنان کے رویے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اور کسی بھی معاشرے میں سیاسی تنظیموں اور جماعتوں کے کارکن رونماء ہونے والی تحریکوں میں ہر اول دستے کا کردار ادا کر تے ہیں۔
وہ اپنے سیاسی اور انقلابی پن کی بدولت جمود کا شکار سماج کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب جماعتیں اور تنظیمیں کارکنان کی صحیح سمت رہنمائی کریں۔ جس سے مراد وقت وحالات کی مناسبت سے پالیسیوں کا نفاظ اور ان پالیسیوں کی توسط سے پروگراموں کا اجراء ہو۔
انھوں نے کہاکہ ایک سیاسی کارکن کے اندر چند خوبیاں ہونی چائیے جو تنظیم یا پارٹی کیلے فائدہ مَنْد ہوں
ایک سیاسی کارکن غیر ضروری گفتگو سے گریز کریں۔
سیاسی کارکن جس سماج میں بھی جاتا ہو اسے چائِے کہ غیر ضروری بحث مباثہ سے گریز کریں وہ کہیں بھی جائیں انکی باتیں سیاسی ہونی چائیں اور بات کرنے کا طریقہ بھی سیاسی ہونی چائیے اسے سیاسی دائرے میں رہ کر بات کرنی چائیے اور سیاسی کارکن کو ہمیشہ دلائل و نظریہ پر بات کرنی چاہیے اور اس بات کا خیال رکھنا چائیے کہ اسکی باتوں سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔
ایک سیاسی کارکن کی انداز بیان۔
سیاسی کارکنوں کا انداز بیان محفل کے مطابق ہونا چائیے انداز بیان اتنا ہونا چائیے کہ اگر سامنے والے سیاسی کارکن ہے تو آپ کے ساتھ اچھے انداز میں بحث مباحثہ کرے اور آپکی انداز بیان اتنا جذباتی اور اتنا کم نہ ہو کہ وہ آپکی بحث مباحثہ میں آپکی باتوں کو نہیں سمجھ سکے۔
جب آپ کسی سیاسی کارکن یا سیاسی شخصیت سے سیاست پر بحث مباحثہ کررہے ہوں تو آپکے باتوں میں دلائل ہونی چائیے تاکہ وہ آپکے باتوں سے متفق ہو اور آپ کو ایک سیاسی کارکن سمجھتے ہوئِے آپکی تنظیم یا پارٹی میں شامل ہوجائِے آپکی نظریہ کے ساتھ متفق ہو۔ معاشرے میں ایک سیاسی کارکُن کا انداز بیان متاثر کن ہونی چائیے۔
دلائل کے ساتھ قائل کرنا۔
دلائل ایک ایسی شے ہے جس سے ایک کارکن سماج کے اندر رہ کر اپنے مقصد کو حاصل کرسکتا ہے اگر ایک سیاسی کارکن کے پاس کسی چیز بارے دلیل نہیں ہو تو وہ سماج کے اندر کسی بھی شخص کو اپنے تنظیم یا پارٹی کیلے متاثر نہیں کرسکتا کہ وہ تنظیم یا پارٹی کو جوائن کرے۔اس لیے سیاسی کارکنوں کو علم اور وقت وہ حالات پر تجزیہ کرنے کو اپنا شیوہ بنانا چائیے ۔
سیاسی کارکنوں کا تعلق براہ راست سماج سے ہوتا ہے جہاں ہر طبقہ فکر کے لوگ ہوتے ہیں لہذا سیاسی کارکنوں کو ایسی مہارت ہونی چاہیے کہ وہ ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو ان کی سوچ اور معیار کے مطابق دلائل سے قائل کر سکیں۔
ایک سیاسی کارکن مثبت تنقید خوش آئند تصور کرے۔
مثبت تنقید سیاسی عمل میں چونکہ تعمیر کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے لہذا سیاسی کارکن خود پہ ہونے والی تعمیری تنقید کو خوش آئند تصور کریں اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوں گے تو اپنی خامیوں کا ازالہ کرسکیں گے جن کے اثرات آگے چل کے ان کے کردار کو اجاگر کرنے کی صورت میں رونماء ہوتے ہیں۔
ایک سیاسی کارکن خوداحتسابی کواپنا شیوہ بنائِے۔
نو آبادیاتی اور روایتی معاشروں میں اکثر خود احتسابی کا فقدان نظر آتا ہے اور لوگ اپنی انا کی وجہ سے کہ کہیں اسے ٹھیس نہ پہنچے کہ اپنا احتساب کرنے سے اجتناب کریں ایسے ماحول میں سیاسی کارکن جب تک خود اپنا احتساب نہ کرتا ہو وہ قوم کی اصلاح کے قابل نہیں ہوگا اور اگر وہ قوم کی اصلاح کرنے کی اہلیت سے نابلد ہوگا تو وہ سیاسی عمل کو پروان نہیں چڑھا سکتاہے۔
اس لیے سیاسی عمل میں خود احتساب رویوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے کیونکہ ایسے رویوں سے انفرادی طور پر بھی سیاسی کارکن کامیابی کی جانب گامزن ہوتا ہے اور ان کے مثبت اثرات سے تحریک پہ بھی دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سرکل کے دوران سینٹرل کمیٹّی کے ممبر فضل بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئِے کہا کہ سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں کو اپنے کارکن کے رویہ پر اتنا کام کرنا چائِیے کہ اگر پارٹی پر مشکل وقت آئے تو کارکن ہر طریقے کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں اور اگر پارٹیوں کے کارکن پر تنقید کرے تو وہ برداشت کریں کیونکہ یہ تنقید آنے والے وقت میں اس کے لیے کارآمد ثابت ہوگی۔
انھوں نے کہاکہ تنظیم یا پارٹی کو کارکن کے رویے پر اتنی نشونما کرنی ہوگی کہ وقت اور حالات مطابق فیصلے لے سکے نہ کہ جذباتی ہوکر فیصلے لے جس سے اس کی ذات یا تنظیم اور پارٹی کو نقصان پہنچ سکے۔
سرکل کے آخر میں اس موضوع پر بحث کی گئی، جس پر شرکا نے سوالات پوچھے جن کے تسلی بخش جوابات دئیےگئے۔
