سپریم کورٹ نے جن مسنگ پرسنز کے کیسز میں جوڈیشل انکوائری کروائی وہاں ثابت ہوا کہ انکو ملکی اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا ہے۔ نصراللہ بلوچ

شال : جبری گمشدگیوں میں اداروں کاملوث نہ ہونیکا بیان حکومتی کمیٹی کو مشکوک بنا تا ہے، یہ بات وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے اپنے جاری بیان میں کہی ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے انسانی حقوق کے وزیر کا یہ کہنا کہ آرمی چیف پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس میں کہا ہے کہ ”ملکی ادارے جبری گمشدگیوں میں ملوث نہیں ”کا یہ بیان حکومت اور لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم ذیلی کمیٹی کے کردار کو مشکوک بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وفاقی حکومت اور جبری گمشدگیوں پر قائم کابینہ کا ذیلی کمیٹی ملکی اداروں کو شامل تفتیش اور فریق نہیں بنائیں گے ، جبری گمشدگیوں کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہاہے کہ ”ملکی ادارے ملوث نہیں ”والا بیانیہ وفاقی اداروں اور ریاستی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔ وی بی ایم پی کے چیئرمین نے کہا کہ اگر دیکھا جائے لاپتہ افرادکمیشن کے سامنے ٹھوس شواہد آئے تو کمیشن نے ان لاپتہ افراد کے حوالے سے پروڈکشن آرڈرز جاری کئے اور اسی طرح سپریم کورٹ نے جن مسنگ پرسنز کے کیسز میں جوڈیشل انکوائری کروائی وہاں ثابت ہوا کہ انکو ملکی اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا ہے ،اور اعلیٰ عدلیہ نے انکے بازیابی کے احکامات جاری کئے ، لیکن یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ ان احکامات پر عمل درآمد کیلئے وفاقی حکومتیں اور اعلی عدلیہ نے اپنے آئینی اختیارات کیوں استعمال نہیں کئے۔ انھوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت کا جبری گمشدگیوں پر قائم کابینہ کا ذیلی کمیٹی لاپتہ افراد مسئلہ حل کرانے میں سنجیدہ ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ملکی اداروں کوجبری گمشدگیوں سے بری الذمہ قرار نا دے، بلکہ انہیں فریق بنائے اور کمیشن کے پروڈکشن آرڈرز اور سپریم کورٹ کے لاپتہ کے کیسز اور اعلیٰ عدلیہ کے مسنگ کے کیسز میں جوڈیشل انکوائریز اور احکامات سمیت اقوام متحدہ کی ورکنگ گروپ برائے جبری گمشدگی کے وہ تجاویز جو 2017 میں حکومت پاکستان کو فراہم کئے گئے ہیں ، انکا باغور جائزہ لے اور اس بنیاد پر اپنی تجاویزات تیار کرے اور لاپتہ افراد کے حوالے کام کرنے والے تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری گمشدگ کے ساتھ ان تجاویز پر تفصیلی بحث کے بعد انہیں حتمی شکل دے اور وفاقی حکومت کو فراہم کرے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post