ضلع کیچ میں فورسز اور ڈیتھ اسکواڈکے کارندے کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ،بی ایل ایف

بلوچستان لبریشن فرنٹ بی ایل ایف کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے ضلع کیچ کے علاقے تربت اور بالگتر میں فورسز اور ڈیتھ اسکواڈ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ انھوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دس ستمبر بروز ہفتہ، تین بجے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں نادرہ آفس کے قریب ہمارے سرمچاروں نے پاکستانی فورسز کے دو اہلکاروں پر حملہ کیا۔ حملہ اُس وقت کیا جب فورسز کے اہلکار گشت پر تھے،حملے کہ نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک ہوگیااور ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ نو ستمبر بروز جمعہ رات دس بجے ضلع کیچ کے علاقے بالکتر لوپ کے مقام پر ہمارے سرمچاروں نے پاکستانی فوج کی تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں پر حملہ کیا۔حملے کے نتیجے میں بالگتر کے علاقے میں سرگرم طارق ولد مہراب ہلاک ہوگیااور اُس کے ہتھیار بھی ضبط کر لیے گئے۔ میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ طارق ولد مہر اب بی ایل ایف کا منحرف سرمچار تھا۔بلوچ جہد کاروں اور سرمچاروں کو نقصان دینے میں براہ راست ملوث تھا۔ مراد عرف اکبر ولد عمر، ثناء عرف استادمیر جان اور چاکر عرف پلین، نصیب عرف سمیر ولد جان محمدکوشہید کرنے میں شریک تھا۔جبکہ طارق ولد مہراب کا بھائی عاقل عرف لنشو ولد مہراب بھی بی ایل ایف کا منحرف سرمچار ہے جس نے تین سال قبل بی ایل ایف کے دوسرمچاروں  باہڈ ولد صاحب داد اور حامد ولد یوسف کو بالگتر لوپ کے علاقے میں شہید کرنے کے بعدریاستی تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ کے سر غنہ خالد ولد یعقوب کی مدد سے فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ۔ جبکہ بی این اے کے سرمچاروں شے حق اور گہرام کو شہید کرنے میں طارق اور اُس کابھائی عاقل عرف لنشو ولد مہراب ملوث تھے۔ ترجمان نے بیان میں کہا گیاکہ طارق ولد مہراب پاکستانی فوج کے ہمراہ بلوچ سرمچاروں کے خلاف آپریشن میں شریک ہونے کے ساتھ ساتھ علاقے میں چوری ڈکیتی،لوگوں کے املاک کو لوٹنے منشیات کے کاربار اور دیگر سماجی برائیوں میں ملوث تھا۔ جن کا تعلق پاکستانی فوج کے تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ خالدولد یعقوب کے گروپ سے تھا۔جو کہ کیچ کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج کے سرپرستی میں بلوچ جہد کاروں کے خلاف سرگرم ہے۔ میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ طارق اور اس جیسے تمام ریاستی آلہ کار قومی جرم کے مرتکب ہیں، جہد آزادی کے سامنے رکاوٹ بننے والے تمام آلہ کاروں اور مخبروں کے تفصیلات ہمارے پا س موجود ہیں،ان کے خلاف ہمارے کارروائیوں میں مزید شدت آئی گی۔ ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک ہمارے حملے شدت کے ساتھ قابض پاکستانی فوج، خفیہ اداروں اور ان کے مقامی آلہ کاروں کے خلاف جاری رہیں گے

Post a Comment

Previous Post Next Post