ضلع واشک و بسیمہ میں تعلیمی پسماندگی ، تعلیمی اداروں کی عدم موجودگی تشویشناک ہے. بساک

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے بسیمہ اور ضلع واشک میں تعلیمی اداروں کی غیرفعالیت اور تعلیمی سہولیات کی زبوں حالی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دو لاکھ سے زائد کی آبادی والے ضلع واشک اور بسیمہ میں اعلی تعلیم کیلئے ادارے سرے سے موجود ہی نہیں تو دوسری جانب ضلع بھر کیلئے انٹرکالج پچھلے چھ سالوں سے فعال نہ ہوسکا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ 2008 کو جس ادارے کی منظوری دی گئی تھی وہ ابھی تک تعمیری مراحل میں ہے جو کہ حیران کن ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعبہ پر حکومتی غیر سنجیدگی کو بھی آشکار کرتی ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں طلبا میٹرک کرنے کے بعد تعلیمی سفر کو خیر آباد کرتے ہیں اور اس کا نقصان بلوچ معاشرے کو مستقبل کی تاریکی میں جھونکنے کا باعث ہوگا۔ انھوں نے کہاکہ محکمہ تعلیم کے ضلعی افیسران کی تعینات جہاں سفارش اور سیاسی اثررسوخ کے باعث ہو وہاں سکول اور کالجز کی فعالی اور اساتذہ کی موجودگی بھی اسی کرپٹ نظام کے نذر ہوجاتا ہے ھائی اسکولوں میں اساتذہ نے غیر حاضر ہونے کو بلوچستان بھر میں اپنا شیوہ بنایا ہے ، لیکن حکومتی حلقے تعلیمی ایمرجنسی کے کھوکھلے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ یہ دوسرا دور حکومت ہے جو تعلیمی ایمرجنسی کے نام پہ لاکھوں روپے خرچ کرنے کا دعویدار ہے لیکن اس کا کوئی بھی کارنامہ ہمیں معروض میں دکھائی نہیں دیتا۔ بساک نے کہا کہ بلوچ قومی مستقبل کو اندھیروں میں دھکیلنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے بساک کا بلوچ لٹریسی کیمپین بلوچستان میں سکول اور کالجز کی فعالیت کیلے جدوجہد کو مزید بڑھائے گا۔ واشک اور بسیمہ میں تنظیمی کارکنان نے سکولز اور کالجز کا ڈیٹا اکھٹا کیا ہے جس میں اکثریتی سکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں وہیں رہی سہی کسر اساتذہ کے غیر حاضر ہونا پورا کرتا ہے بسیمہ انٹرکالج میں کلاسز کا اجرا نہ ہونے سے سینکڑوں کی تعداد میں طلبا کا تعلیم چھوڑ کر غیرسماجی اور غیر سیاسی سرگرمیوں میں چلے جانے کا اندیشہ ہے جو سماجی بگاڑ کو پیدا کرکے آنے والے وقتوں میں ایک تباہی کی شکل اختیار کرے گی جس کا خمیازہ عوامی و سیاسی نمائندوں اور ایک علاقہ کو بھگتنا پڑے گا۔ اپنے بیان میں حکومتی نمائندوں اور ضلع سطح پر محکمہ تعلیم سے منسلک افیسران کو زور دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جلد بسیمہ اور واشک کے تعلیمی مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کریں ، جس میں انٹرکالج کی فعالیت، سکولوں میں اساتذہ اور طلبا کی حاضری کو یقینی بنانے سمیت اعلی تعلیمی اداوں کے کیمپس کا اجرا ہونی چاہیے تاکہ اس پسماندہ علاقے کو تعلیم کی روشنی سے منور کیا جاسکے۔ اگر حکومتی نمائندوں اور افیسران نے جلد کوئی پیش رفت نہیں دکھائی تو تنظیم آئینی اور قانونی راستہ اپناتے ہوئے سخت لائحہ عمل طے کرے گی.

Post a Comment

Previous Post Next Post