حالیہ مون سون بارشوں سے بلوچستان کے کئی اضلاع میں ارضیاتی تبدیلیاں رونماء ہونے لگیں یہ بات ماہر ارضیات پروفیسر دین محمد کاکڑ نے بتائی ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ مختلف اضلاع میں زمین سرکنے، دھنس جانے اور دراڑیں پڑنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔
ماہر ارضیات کا کہنا ہے کہ عشروں کے دوران 10 ہزار سے زائد ٹیوب ویل لگائے گئے اور زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گرنا ارضیاتی تبدیلی کا سبب بن رہا ہے۔
انھوں نے بتایا ہے کہ متاثرہ اضلاع میں زلزلوں کا خدشہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ جیولوجی ڈیپارٹمنٹ نے 10 جدید زلزلہ پیماء مشینیں درہ کوژک اور قلعہ عبداللہ میں نصب کردی گئی ہیں۔
