شال: بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی سب کیمپس خاران کو تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے ، جو انتہائی قابل افسوس اور لمحہ فکریہ ہے، اگر ان مسائل کو حل نہیں کیا گیا تو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے دیئے گئے تعلیمی معیار کو پورا نہ کرنے کی شرط پر عن قریباََ سب کیمپس خاران کو بند کرنے کا خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان جامعہ سب کیمپس خاران 2017 کو قائم کی گئی تھی، ابتدا میں کیمپس کے اندر دو شعبوں ایل ایل بی اور کمپیوٹر سائنس کے شعبے کھولے گئے تھے ، جن سے کئی طالب علموں نے استفادہ حاصل کرکے داخلہ لئے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک سوچے سمجھے پالیسی کے تحت بلوچ طالب عملوں کے تعلیمی حقوق کو سلب کرنے کیلئے مختلف شرائط لاگو کئے گئے ، جو کہ بلوچستان کے پسماندہ تعلیمی نظام سے منسلک طلباء کیلئے ان شرائط کو پورا کرنا انتہائی مشکل ہے، دراصل اسطرح کی شرائط لاگو کرنا بلوچستان کے طالب علموں کے تعلیمی حقوق چھیننے اور انہیں تعلیم سے دور رکھنے کی پالیسیوں کی کڑی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں سب کیمپس میں داخلہ لینے کیلئے کوئی شرائط لاگو نہیں تھے، لیکن اب آئی ٹی کے شعبے میں پری انجنیئرنگ کے طلباء کیلئے پچاس فیصد نمبرز داخلے کی شرط لازمی قرار دی گئی ہے۔ جبکہ ایل ایل بی میں داخلہ لینے کیلئے LAT ٹیسٹ کو لازمی قرار دے کر متعدد طلباء کو انکے تعلیمی حقوق چھینے گئے،
انھوں نے کہاہے کہ حالیہ ایڈمیشن ٹیسٹ میں لاء کے شعبے میں 44 امیداروں میں سے صرف چار طالب علموں نے ٹیسٹ پاس کئے جن سے داخلے کی شرح میں کافی حد تک کمی آئی ہے، بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں غیر ضروری شرائط لاگو کرنا طلباء سے انکے تعلیمی حقوق پر ڈاکہ لگانے کی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب کیمپس خاران میں نئے شعبہ سائنس منیجمنٹ کھولنے کے بعد اب ان میں USAT ٹیسٹ متعارف کیا جا رہا ہے، عنقریباََ ان میں بھی ایڈمیشن کیلئے مزکوہ بالا شرائط لاگو کرنے کے امکانات ہیں، جن میں داخلہ لینے کے خواہشمند طلباء محروم ہونگے۔
انھوں نے کہاکہ ایڈمیشن کیلئے غیرمنصفانہ منصوبوں پر عائد شرائط کے علاوہ سب کیمپس خاران میں ٹیچرز کیلئے کوئی رہائشی انتظامات نہیں اور نہ ہی خاران کے علاوہ رخشان ڈویژن کے دوسرے اضلاع کے طلباء کیلئے ہاسٹلز تعمیر کی گئی ہے، رہائشی سہولیات میں فقدان کی وجہ سے دیگر اضلاع کے طالب علم ملک کے دیگر شہروں میں قائم یونیورسٹیز میں داخلہ لینے کیلئے مجبور ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور اقتدار اعلیٰ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سب کیمپس خاران میں داخلے کیلئے عائد شرائط پر نظریاثانی کرکے پالیسیوں میں نرمی لانی چاہئے، تاکہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء ان شرائط کو پوری کرسکیں،
انکے علاوہ خاران کیمپیس میں ٹیچرز اور اسٹوڈنٹس کی رہائش کیلئے نئے ہاسٹلز تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ڈپارٹمنٹس کھول کر رخشان ڈویژن کے نوجوانوں کیلئے تعلیمی مواقع فراہم کی جائیں بصورت دیگر سب کیمپس خاران میں بنیادی تعلیمی عدم سہولیات کی فراہمی کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے
