لاہور : چار پانچ سو پنجابیوں کی حمایت کی وجہ سے ہم پورے پنجاب کو معاف نہیں کرسکتے سب کو نکلنا ہوگا۔ انقلاب سوچ کے بدلنے سے اتا ہے اسلئے ہمیں لوگوں کو شعور دینا ہوگا، کالونیل اور سامراجیت سے آگاہ کرنا ہوگا، اپنے ساتھیوں کی تعداد کو بڑھانا ہوگا تب انقلاب ممکن ہے۔منظور پشتین کا لاہور میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے منعقدہ تقریب میں اظہار خیال۔
انھوں نے کہاکہ میں 23 سال کا تھا جب ہم نے پی ٹی ایم کی بنیاد رکھی تھی اب میں 27 سال کا ہوچُکا ہوں۔ میرا شناختی کارڈ بلاک ہے، میرا سیم کارڈ بلاک ہے اور مجھے بلوچستان ،کشمیر اور گلگت بلتستان میں جانے پر پاپندی ہے۔ پاکستان میں اِسی چیز کو نوجوانوں کی سیاست میں حصہ کہا جاتا ہے۔
منظور پشتین نے کہاکہ اگر ہم آواز نہ اٹھائیں تو بھی ہمیں مار دیں گے۔ آپ کون سے ریاست کی بات کرتے ہو ،یہاں ریاست نہیں صرف اور صرف چند لوگوں کی غنڈہ گردی ہے۔ 33 ارب ڈالر لینے والوں کو میں چیلنج دیتا ہوں کہ اگر وہ ہمارے اوپر (بیرونی ملکوں کے ایجنسیوں سے لیا) ایک پیسہ بھی ثابت کرے تو ہم ہر قسم کی سزا کیلئے تیار ہے ۔
انھوں نے کہاکہ کل وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ میں لاپتہ افراد کو رہا کرو گا۔
ہم پوچھنا چاہیں گے کہ وزیراعظم
آپ علی وزیر کا پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کرسکتے ،آپ لاپتہ افراد کو کسی طرح رہا کرینگے؟
انھوں نے کہاکہ کہہ رہے ہیں کہ آپ لوگ اینٹی سٹیٹ ہے۔ کوئی بتائیں کہ یہاں ہم سٹیٹ کو مار رہے ہیں یا سٹیٹ پشتونوں کو مار رہا ہے؟ ہم نہیں، سٹیٹ اینٹی پشتون ہے۔ یہاں کوئی سٹیٹ ہے ہی نہیں بلکہ مکمل غنڈہ گردی ہے یہاں جو بات کرے انکو ویگو آکر لے جاتی ہے۔ یہاں کوئی نظام نہیں۔
