پنجگور، ڈی سی ہاوس میں اجتماعی زیادتی کا شکار بننے والے تین کمسن بچوں کا انصاف کیلے مطالبہ

پنجگور کے رہائشی نوعمر لڑکے نے اپنے جاری ویڈیو میں الزام لگا یاہے کہ وہ اپنے دیگر دو دوستوں کے ہمراہ مقامی ہوٹل میں چاہئے پی رہے تھے ،یونس نامی لیویز اہلکار ہوٹل میں آئے اور کہاکہ تم لوگوں کو ڈپٹی کمشنر بلا رہے ہیں ، ہم انکے ساتھ گئے جہاں انھوں نے ڈی سے ہاوس کے مہمان خانہ میں ہمیں بٹھایا دیا اور کہاکہ جب ڈی سی پہنچے تو تم لوگوں کو پیش کریں گے ۔ ہم انتظار کر رہے تھے کہ انھوں نے ہمارے لئے پیپسی کولڈ ڈرنک لائے یونس کے ساتھ اور بھی چار چھ افراد تھے مگر انکے چہرے ہم نہیں دیکھ پائے ۔ہم پیپسی پی لئے جس کے بعد ہم اپنے ہوش میں نہیں رہے جب ہوش آگیا تو وہ ہم سےجنسی زیادتی کر چکے تھے ۔ لہذا ہم مقامی انتظامیہ خاص کر ڈپٹی کمشنر سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں انصاف دلائیں کیوں کہ ہمیں انھیں کے نام پر دھوکہ دیا گیا ورنہ وہ ہمیں کبھی بھی نہیں لاسکتے تھے ۔ ایک رپوٹ کے مطابق 6ستمبر کو پنجگور کے علاقے چتکان سے تین کمسن بچوں کو بسم اللہ چوک چتکان سے ایک لیویز اہلکار یہ کہتے ہوئے کمشنر ہاوس میں لے جاتے ہیں کہ اُن کو ڈپٹی کمشنر نے بلایا ہے. بچے لیویز اہلکار کے ساتھ کمشنرہاوس پنجگور پہنچ جاتے ہیں.پہلے سے چار درندہ صفت انسان بچوں کی تصویریں نکالتے ہیں اور جوس میں نشہ آور گولی ملا کر اُن کوپلایا جاتا ہے.اس کے بعد اُن کے ساتھ مسلسل کئی گھنٹے تک غیر انسانی سلوک کرکے اپنی موبائل سے ننگی تصویریں اور ویڈیوز بنائے جاتے ہیں. تصویر میں بغیر لباس کے معصوم بچے پڑے رہتے ہیں اور اُن کو بغیرکپڑوں کے نچایا جاتا ہے. کمشنرہاوس کےجس کمرے میں آنے والے مہمان قیام کرتے تھے اسی کمرے میں معصوم بچوں کو کئی گھنٹے تک غیرانسانی سلوک کانشانہ بنایاجاتا ہے.بچوں کے مطابق یہ ایک پوراگینگ ہےجوکئی مہینوں سے مسلسل مختلف بچوں کو اپنی غیر انسانی سلوک کا نشانہ بناتے رہے ہیں. پنجگور کے مین وی آئی پی علاقہ جہاں ڈی سی آفس، ڈی پی او آفس، عدالت اوردیگر اہم سرکاری دفاتر اورسرکاری رہائشی بنگلے ہیں اسی اہم علاقے میں بچوں سےمسلسل زیادتی اور اُن کی حالت کو بدسے بد تر بنایاجاتا ہے.بچوں کو ایک حساس کیفیت میں ہسپتال منتقل کیاجاتاہے اور اُن سے اجتماعی زیادتی کی تصدیق ہوتی ہے. مجرموں میں سے ابھی تک ایک کوگرفتار کیاگیا ہے اور باقی متاثرہ فیملی کو دھمکی دے کر خاموش کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، اورلاکھوں روپےدے کر مسئلہ کو ختم کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں. اگر سرکاری محافظ اور اہم سرکاری رہائشی بنگلوں میں اس طرح کے غیر انسانی سلوک ہوتے رہتے ہیں تو معاشرے کے دیگر معصوم بچے کس طرح اپنی گھروں سے نکل سکتے ہیں. نامزدمجرموں کو پکڑنا اور متاثرین کو انصاف دینا یہاں کے اداروں کی زمہ داری ہے. ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post