بیرون ملک مقیم بلوچ اپنے کاموں میں تیزی لائیں، جبری لاپتہ افراد کے بازیابی کیلے لگائے گئے کیمپ کو 4768 دن ہوگئے ،ماما قدیر

بلوچ جبری لاپتہ افراد شہداء کے بھوک ہڑتال کیمپ کو 4768 دن ہوگئے۔ احتجاجی کیمپ میں وائس فار بلوچ مسسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ ، وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ اور کوئٹہ کے کو آرڈینیٹر بانک حوران بلوچ بیٹھے رہے ۔ جبکہ آج اظہار یکجہتی کرنے والوں میں نوشکی سے امین اللہ بلوچ علاو الدین بلوچ اور بی ایس او بچار کے جوائنٹ سیکریٹری ابرار بلوچ نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔ وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے کہاں کہ جدوجہد میں فرد اپنی شہادت میں ایک ادارہ تخلیق کرتے ہوئے اپنے پیچھے روایات اور سچی قوم دوستی کے عظم جذبات کو چھوڑ جاتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ مقبوضہ بلوچستان میں جہاں آج ہم غلامی کی زندگی جی رہے ہیں، جہاں ایک قوم اپنی جنت جیسی سرزمین میں دوزخ جیسی زندگی گزار رہے ہیں، جہاں کچھ لوگ مال زر سے فیضیاب ہوتے ہیں اور وہی لوگ قابض استعمار کے قیصدہ خواں بن چکے ہیں، روزی کمانے کے باعزت اور جائز طریقے مسدود ہوتے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس زمین اور ضمیر کے سوداگروں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی، جو ریاست کے ظلم میں برابر شریک جرم ہیں۔ انھو ں نے کہاکہ بلوچستان میں اس وقت ہزاروں افراد جبری لاپتہ ہیں اور شدید انسانیت سوز ظلم سے دوچار ہیں، جس کیلئے اولاً تو تمام سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے اداروں کو ایک ساتھ ہو کر اس جبر کو آشکار کرنے کیلئے ماس موبائلائزینش کریں۔ ماما نے زوردیاکہ بیرون ملک مقیم بلوچ اپنے کاموں میں تیزی لائیں اور بلوچستان میں جاری ریاستی دہشت گردی کو انسانی حقوق کے پلیٹ فارم پر اجاگر کریں، اقوام متحدہ کے جاری انسانی حقوق کے کنونشن میں بلوچوں پرجاری جبر کو عالمی دنیا کے سامنے پیش کریں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post