شال (ویب ڈیسک ) گورنمنٹ ٹیچرز ایسو سی ایشن آئینی بلوچستان کے قائدین تیسرے روز بھی اساتذہ کے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کیلئے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہے، بھوک ہڑتالی اساتذہ پر غشی کے دورے پڑتے رہے لیکن اس کے باوجود وہ مطالبات کے حل تک جدوجہد جاری رکھنے کیلئے پرعزم رہے۔
دن بھر اساتزہ کرام محکمہ تعلیم سے منسلک افسران دیگر شخصیات، وکلاء برادری، سیاسی رہنماء، ٹریڈ یونینز کے نمائندوں، سول سوسائٹی کیلئے منسلک مختلف شخصیات یکجہتی کیلئے کیمپ آئے اور اپنی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
تاہم انھوں نے اس موقع پر
حکومتی ایوانوں میں بے حسی، بے رحمی، سنگدلی اور شعبہ تعلیم جیسے اہم ترین شعبہ سے مکمل لاتعلق اور روگردانی کے منفی رویے پر ڈٹے رہنا کسی المیے سے کم نہیں۔
انھوں نے کہاکہ دنیا بھر میں شعبہ تعلیم اور اس سے منسلک اساتذہ کو ترجیحی بنیادوں پر مراعات سے نوازا جاتا ہے جبکہ یہاں جان بوجھ کر اساتذہ، طلبہ اور تعلیمی اداروں کے معمولی نوعیت کے مسائل و مطالبات حل کرنے کے بجائے مزید مسائل پیدا کئے جاتے ہیں۔
