قلعہ سیف اللہ (اسٹاف رپورٹرز سے ) قلعہ سیف اللہ بلوچ افغان بارڈر بادینی کسٹم کی بندش کے خلاف بادینی بازار میں شٹرڈن اور پہیہ جام ہڑتال ھوا تمام دوکانیں بند بلوچستان افغان بارڈر ہر قسم ٹریفک کے لئے بند قبائلی مشران لوکل تاجران تمام سیاسی پارٹیوں اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔
احتجاجی مظاہرے سے قبائلی مشران حاجی عبدالستار مولوی خالد ملا جان محمد اخترشاہ کاکڑ بسم اللہ ملا محیب اللہ رحمت اللہ ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بادینی ٹریڈ ٹرمینل ناگزیر وجوہات کے بناپر آمد ورفت اور تجارت کے لئے دو سال سے ایک سازش کے ذریعے بند کیا گیا ہے حالانکہ اس بارڈر پر حکومت پاکستان اور ایف بی آر کی ہدف سے تین گناہ سے زیادہ رقم گورنمنٹ کی خزانہ میں جمع ھوا امپورٹرز ایکسپورٹرز وتاجران نے بڑ چھڑ کر حصہ لیا تھا ملک بالخصوص بلوچستان کے تاجران نے بڑی تیزی سے امپورٹ ایکسپورٹ شروع کیا تمام بے روزگارغریب عوام نے بال بچوں کے لئے دو وقت کا روٹی میسر ھوئی لوگوں میں خوشحالی آئی علاقے کے تمام لوگ روزگار میں مصروف رہے نہ جانے کس کی بری نظر لگی اور ایک سازش کے طورپر بادینی ٹریڈ ٹرمینل پر کام روک دیا گیا ۔
انھوں نے کہاکہ اگر باڈر مزید بند رہا تو لوگ بے روزگاری سےتنگ آکر سماجی برائیوں میں گھر جائیں گے ۔ اور دوبار غلط کاموں لگنے کا خطرہ ہے ۔
انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے بارڈر کو فی الفور طور پر فعال کرنے اور تجارت شروع کرنے کا احکامات جاری کریں بادینی ٹریڈ ٹرمینل تجارت کے لئے دونوں ہمسایہ ملکوں کی مفاد میں ہے یہا ں کے لوگ امن پسند اور ملک وفادار رہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ہمارے جائز مطالبات پر عمل نہیں کیا تو پھر ہم احتجاج کادائرہ وسیع کرینگے۔
