بلوچ نیشنل موومنٹ کے سابقہ سیکٹری جنرل رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنے ٹیوٹ میں کہاہے کہ
بلوچستان پر پاکستان کے استعماری قبضے کے تناظر میں اس کی انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا متفقہ طور پر بلوچوں کو دشمن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انھوں لکھاکہ وہ جان بوجھ کر بلوچ نوجوانوں کی پروفائلنگ اور غائب کرنے کے لیے فوج کو جوابدہ ٹھہرانے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ بلوچ نسل کشی کی توثیق ہے
انھوں کہا
دشمن کے برعکس، بلوچ قوم پرستوں کے کچھ حلقے دو دِلا نظر آتے ہیں۔ دشمن کے خلاف ان کے مورچے خاموش ہیں۔ وہ پاکستان کے ساتھ کوئی راستہ نکالنے کے لیے پرامید دکھائی دیتے ہیں۔ بلوچ نے کہاکہ اس نازک وقت میں اس طرح کی پوزیشن ڈوبتے ہوئے دشمن کو نیچے دھکیلنے کے بجائے اسے بچانے کے مترادف ہے۔
انھوں نے مزید لکھاہے کہ
خاموشی یا آزادی سے کم چیزوں پر دشمن کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کی کوشش غلامی کے طوق کو توڑنے کے بجائے ڈھیلے کرنے کے مترادف ہوگی۔ ایسا طرز عمل بلوچ قوم کی آزادی کے لیے دی گئی عظیم قربانیوں کے منافی ہے
