خضدار کے علاقے کٹھان، سول کالونی، جعفرآباد اور سنی سمیت مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپے
سی ٹی ڈی کراچی کی ٹیم نے لیڈی سرچر کے بغیر گھروں میں گھس کر چار خواتین کو تشدد کا نشانہ بناکر گرفتار کیا
چھاپہ مار ٹیم گرفتار خواتین اور درجن سے زائد افراد گرفتار کرکے کراچی روانہ
متاثرہ خاندانوں کی خواتین قرآن پاک لے کر ڈپٹی کمشنر کے دفتر اورخضدار پریس کلب پہنچ گئیں
سی ٹی ڈی کراچی نے چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا، خواتین مظاہرین
خضدار کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس چھاپے سے بے خبر نکلی
کسی دوسرے صوبے میں چھاپے کےلئے پولیس کو متعلقہ صوبے کے محکمہ داخلہ سے پیشگی اجازت لینا ہوتی ہے
سندھ پولیس یا سی ٹی ڈی کراچی نے بلوچستان میں کارروائی کےلئے کوئی پیشگی اجازت نہیں لی، ذرائع محکمہ داخلہ بلوچستان
شکایت ملنے پر ایس ایس پی خضدار امجد علی کاسی نے سی ٹی ڈی کراچی کی حراست سے گرفتارخواتین کو چھڑانے کےلئے خضدار پولیس کی ٹیم تعاقب میں بھیجی
خضدار پولیس خضدار کی رہائشی گرفتار چاروں خواتین کو بلوچستان کے علاقے بیلہ سے چھڑاکرواپس لے آئی
چادر و چار دیواری کی پامالی اور خواتین کی گرفتاری سے بلوچستان کے قبائل میں غم و غصہ پایا جاتا ہے
سی ٹی ڈی کراچی کی غیر ذمہ دارانہ کارروائی سے خضدار کی انتظامیہ پریشان، منفی نتائج کی ذمہ داری سی ٹی ڈی کراچی پر عائد ہوگی، خضدار پولیس کا سندھ پولیس سے رابطہ
گرفتاریاں کراچی میں ڈکیتی کے دوران ایک شہری کے قتل میں ملوث ہونے کے شبہ میں کی گئیں ، ذرائع