خضدار میں کراچی پولیس کے چھاپوں کے دوران خواتین پر تشدد اور چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی سراسر بدمعاشی ہے،

خضدار علاقائی روایات کی پامالی اور خواتین پر تشدد کے واقعات ناقابل برداشت ہیں۔آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضدار* خضدار/آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضدار کے چئیرمین ایڈوکیٹ عبدالحمید بلوچ نے خضدار میں کراچی پولیس کی جانب سے علاقائی روایات کو پاوں تلے روندنے اور قانونی طریقہ کار سے ہٹ کر ضلعی انتظامیہ و مقامی پولیس کو اعتماد میں لیئے بغیر چھاپہ مار کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چھاپوں کے دوران خواتین پر تشدد کرنا اور چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی ناقابل برداشت اور انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔ کراچی پولیس کو اگر کوئی ملزم مطلوب تھا تو اس کو حراست میں لینے یا گرفتار کرنے کے لیئے قانونی طریقہ کار موجود تھا لیکن اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے مقامی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو اعتماد میں لیئے بغیر رات کی تاریکی میں شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں سراسر بدمعاشی اور لوگوں کو اشتعال دلانے اور ان کی جزبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پولیس کے چھاپوں کے دوران پندرہ سے زائد افراد کی گرفتاری اور خواتین پر سفاکانہ انداز میں تشدد کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں لیکن مقامی انتظامیہ کراچی پولیس کے چھاپوں اور مبینہ گرفتاریوں سے لاعلمی کا اظہار کر رہی ہے۔ بلوچ معاشرے میں خواتین کی عزت باقی تمام چیزوں سے مقدم ہے، جس طرح سے خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اس سے عام شہریوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے مزکورہ صورتحال پر ضلعی انتظامیہ کو کسی صورت بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ڈپٹی کمشنر خضدار اور ایس ایس پی خضدار کو مزکورہ صورتحال کا نوٹس لیکر فوری طور پر اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اپنی علاقائی روایات ہیں اور ہم نے ہمیشہ جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ شکنی کی ہے لیکن کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ گرفتاریوں کی آڑ میں ہمارے علاقائی روایات اور چادر اور چار دیواری کی تقدس کو پامال کرے یا خواتین کو بلاجواز تشدد کا نشانہ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ خضدار کی سیاسی جماعتیں اور عام شہری اس طرح کی کارروائیوں پر کسی صورت خاموش نہیں رہ سکتے۔ ایسے واقعات کا تدارک نہیں کیا گیا تو سخت احتجاج پر مجبور ہونگے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post