صدر پوٹن نے جوہری مشقوں کا آغاز کردیا

ماسکو : مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے گزشتہ روز جوہری حملے کی صلاحیت کے حامل بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے تجربات شروع کر دیے جب کہ ایک ہائپرسونک میزائل کی بھی تجرباتی لانچنگ کی گئی۔ ایک ایسے موقع پر جب مغربی ممالک کی جانب سے روس کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ طاقت کے زور پر ملکی سرحدوں میں کسی بھی تبدیلی کی کوشش سے باز رہے روس نے جوہری میزائلوں کے تجربات کا آغاز کر دیا ہے۔ مغربی ممالک کا الزام ہے کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ روس کی ایک لاکھ سے زائد فوج یوکرائنی سرحد پر موجود ہے تاہم روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ میونخ میں سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر روسی فوج کسی بھی قسم کی پیش قدمی کرتی ہے، تو نیٹو کے مشرقی یورپی بازو میں فوجی موجودگی بڑھا دی جائے گی جب کہ روس پر سخت ترین پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔ کملا ہیرس کا کہنا تھا قومی سرحدیں طاقت کے زور پر کسی بھی صورت تبدیل نہیں ہونا چاہیں ۔ انہوں نے مزید کہا ہم نے اقتصادی سطح پر اقدامات کی تیاری کر لی ہے جو فوری شدید اور منظم ہوں گے۔ ان میں روس کے مالیاتی اداروں اور کلیدی صنعتوں کو ہدف بنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ جنوبی جرمن شہر میونخ میں عالمی سکیورٹی کانفرنس میں شریک جرمن چانسلر اولاف شولس نے روس کو متنبہ کیا کہ یوکرائن پر کوئی بھی روسی حملہ ایک سنگین غلطی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کسی کارروائی کی انتہائی بھاری سیاسی اقتصادی اور جیو سٹریٹیجک قیمت چکانا ہوگی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post