انٹلی جنس نے ھیربیار مری کی اہلیہ کے میڈیکل ایمرجنسی بنیادوں پر جرمنی سفر کے وقت رکاوٹ پیدا کی*

لندن: فری بلوچستان موومنٹ کے صدر ھیربیار کی اہلیہ جرمنی میں وفات پا گئی ہیں ان کی اہلیہ کینسر کی مریض تھیں اور جرمنی میں زیر علاج تھیں۔ متوفی کو 21 دسمبر کو علاج کے لیے جرمنی کے شہر فرنکفرٹ میں لے جایا گیا تھا۔ بلوچ رہنماء ھیربیار مری نے اپنے ایک بیان کے ذریعے بتایا ہے کہ جب ان کی اہلیہ کو علاج کے لیے لندن کے ایک ہسپتال سے جرمنی منتقل کیا جا رہا تھا تو برطانیہ کی انٹلی جنس اہلکاروں نے انھیں شیڈول 7 کے تحت روک کر ان کے ساتھ تفشیش کی۔ ھیربیار اور ان کی بیمار اہلیہ کے جن کا کسی سیاسی سرگرمی سے تعلق نہیں موبائل فون ضبط کیے گئے جن میں ضروری سفری دستاویز تھے۔ ھیربیار مری نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ جب انھیں ایمبولینس کے ذریعے ائرپورٹ منتقل کیا جا رہا تھا تو پہلے سے وہاں انتطار میں کھڑے انٹلی جنس اہلکاروں نے ان کے ایمبولینس کو گھیرے میں لیا۔ انھوں نے کہا روانگی کے عمل کے دوران مداخلت کرنے والے برطانوی انٹلی جنس کے اہلکار سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے اور انھوں نے اپنی پہچان بھی ظاہر نہیں کی۔ مجھے شیڈول 7 کے تحت روک کر ایک عمارت میں تفشیش کے لیے لے جایا گیا اور ہمارے موبائل ضبط کر لیے گئے۔ ’’ انھوں نے ہمارے ذاتی موبائل کے پاسورڈ طلب کیے جو میں نے دینے سے معذرت کرلی ۔‘‘ ھیربیار مری نے کہا ہنگامی طبی وجوہات کے تحت درپیش سفر کے لیے رکاوٹیں پیدا کی گئیں اور ہر ممکن طور پر انھیں روکنے کی کوشش کی گئی۔برطانوی حکام نے جنھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کے اس عمل سے ہنگامی طبی پرواز میں خلل پڑے گا ، انھوں نے مریض کی سنگین حالت کا معائنہ بھی کیا تھا لیکن اس کے باوجود انھوں نے ہمارے فون واپس کرنے سے انکار کردیا۔مجھے بتایا گیا کہ جب تک میں ان کے بلیک میلنگ میں نہیں آتا اور ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا وہ مجھے اپنی اسٹریچر پر لیٹی اہلیہ کے ساتھ جرمنی جانے کے لیے ہوائی جہاز میں سوار ہونے نہیں دیں گے۔باوجود اس کے کہ وہ جانتے تھے کہ میں اپنے خاندان میں ان کی تیمار داری کے لیے ان کے ساتھ جانے والا واحد فرد تھا۔ ’’ ہمارے موبائل فونز میں ذاتی اور ضروری دستاویز تھے جیسا کہ داخلے کے لیے ڈیجیٹل رجسٹریشن، میرے اور میری بیمار اہلیہ کے کوڈ 19 کے پی سی آر ٹسٹ کے نتائج جو کہ کہ قانونی طور پر بیرونی ملک داخلے کے لیے ضروری تھے۔جبکہ جرمنی نے تو 19 دسمبر 2021 سے غیرجرمن شہریوں کے لیے لندن سے جرمنی سفر کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن میڈیکل ایمرجنسی صورتحال میں سفر کرنے والے افراد کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ھیربیار مری کی طرف سے اس صورتحال کی وضاحت کی گئی اور موبائل میں موجود دستاویز کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا لیکن انٹلی جنس اہلکاروں نے کہا یہ ان کا مسئلہ نہیں بلکہ ھیربیار مری کا ذاتی مسئلہ ہے کہ انھیں جرمنی بغیر کوڈ پاس کے داخلے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔ انھوں نے بتایا مجھے جواب دیا گیا کہ یہ آپ کا ’مسئلہ‘ ہے کہ جرمن حکام مریض کو بغیر کوڈ پاس اور ویکسینیشن کے ثبوت ملک میں داخلے کی اجازت دیں گے یا نہیں۔یہ جاننے کے باوجود کہ یہ دستاویز صرف ہمارے موبائل فونز میں ہی موجود تھے۔ہمیں موبائل فونز واپس نہیں کیے گئے۔اس خدشے کے باوجود کہ مریض کو بغیر کوڈ پاس کے فوری نگہداشت کے لیے جرمنی میں داخل ہونے سے روکا جائے گا۔ ھیربیار مری کے مطابق انھوں نے اس صورتحال سے نکلنے کے لیے اپنے اور اپنی بیوی کے ذاتی موبائل فونز کے پاسورڈ انٹلی جنس حکام کو بتانے پڑے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ھیربیار مری کی اہلیہ کا ان کی سیاسی سرگرمیوں کوئی عمل دخل نہیں لیکن اس کے باوجود برطانوی انٹلی جنس نے سخت بیمار کی حالت زار، اس کے حقوق اور پرائیویسی کو نظر انداز کرتے ہوئے اس صورتحال کو ھیربیار مری پر اپنے ناجائز مطالبات منوانے کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال کیا۔ ھیربیار مری نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا کوئی ایسی بین الاقوامی تنظیم موجود ہے جو اس معاملے کو اٹھائے اور فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی کے معاملے پر مزید تحقیق کرئے کہ کس طرح کسی شدید مریض شخص کے ذاتی استعمال کی چیزوں کو چھین کر ضبط کیا گیا جو کسی سیاسی معاملے میں شریک نہ تھی۔ ھیربیار نے مزید کہا ھلمند ، افغانستان میں چار سو برطانوی سپاہیوں کی ہلاکت میں براہ راست ملوث ہونے کے باجود برطانوی اسٹبلشمنٹ اپنے ہی سپاہیوں کے قاتلوں کو خوش کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔برطانوی حکومت انسانی حقوق کے حوالے سے چاہئے کوئی بھی دعوی کرئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملے میں بورس جانسن اور آئی ایس آئی ایس کے عبدالفتح کی انتظامیہ میں کوئی فرق نہیں۔ فری بلوچستان موومنٹ کے رہنماء نے کہا برطانیہ کا جمہوریت اور انسانی حقوق کے چمپئن ہونے کا دعوی محض نمائشی ہے۔اس کا انسانی حقوق کے حوالے سے دہرا معیار ہے۔اس کے سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فطری طور پر نسل پرست ہیں۔ ’’برطانوی انٹلی جنس اور سیاسی اسٹبلشمنٹ نے روس کو تنقید کا نشانہ بنا کر ان پر اس وجہ سے پابندی عائد کی ہے کہ کیونکہ الیکسی ناولنی کو زہر دیا گیا تھا اور بنیادی انسانی حقوق جیسا کہ صحت تک رسائی کا احترام نہیں کیا گیا تھا ، لیکن اس کے باجود بلوچ آزادی پسندوں کے ساتھ برطانوی حکومت کا رویہ اس سے مختلف نہیں۔‘‘ مختلف سیاسی رہنماوں نے اپنے تعزیتی بیان جاری کئے ہی بلوچ قوم پرست آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے ایک بیان میں بلوچ دوست رہنما میر ہیر بیار مری کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ان کی اہلیہ کے وفات کی خبر سن کر ہمیں انتہائی دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ ہم درد و غم کے اس موقع پر ہیر بیار مری اور لواحقین کے ساتھ ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ االلہ تعالی مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post