ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم نہ کی تو کارروائی کرینگے،چیف جسٹس بلوچستان

ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم نہ کی تو کارروائی کرینگے،چیف جسٹس بلوچستان
کوئٹہ ینگ ڈاکٹرز کی سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال کے حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ سماعت چیف جسٹس ہائی کورٹ نعیم اخترافغان اورجسٹس عبدالحمید بلوچ نے کی۔ صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈاکٹراحمد عباس اور دیگر عہدیدار عدالت میں پیش ہوئے۔ ہائی کورٹ نے ینگ ڈاکٹرزکی سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال پر سرزنش کی اوربرہمی کااظہارکیا۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نعیم اخترافغان نے کہا کہ ینگ ڈاکٹر فوری طورپر اپنی ہڑتال ختم کریں اگر ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم نہ کی تو کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز آئندہ سماعت پر تحریری مطالبات کیساتھ پیش ہوں۔ عدالت کی آئی جی پولیس کو سرکاری اسپتالوں میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کی ہدایت کی۔اور کہا کہ ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال کی تھی،اس پر آپ نے کیاکیا؟ انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام سرکاری اسپتال 24گھنٹے خدمات فراہم کریں،عدالت کاحکم آپ کو بولنے کی ضرورت نہیں،آپ سب کچھ تحریری طورپر لائیں،جو اس حکم کی خلاف ورزی کریگا،اس کیخلاف تادیبی کارروائی کی جائیگی۔ سیکریٹری صحت تمام ڈاکٹروں کا چوبیس گھنٹوں کاڈیوٹی روسٹر تیارکریں۔ صدر ینگ ڈاکٹرزڈاکتر احمد عباس کا کہنا تھا ہم نے ہڑتال نہیں کی،صرف او پی ڈیز نہیں جارہے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ایمرجینسی سروسز کے لوگ ہیں،آپ ہڑتال نہیں کرسکتے آپ کو بولنے کی ضرورت نہیں،آپ سب کچھ تحریری طورپر لائیں۔ جسٹس عبدالحمید بلوچ کا کہنا تھاڈاکٹرز کس قانون کے تحت ہڑتال کررہے ہیں، آپ ہڑتال کریں گے تو آپ کیخلاف بیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائیگی، محکمہ صحت اور ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال سے متعلق کیس کی سماعت آٹھ نومبر تک کیلئے ملتوی کردی گئی

Post a Comment

Previous Post Next Post