خضدار ( نامہ نگار )
گزشتہ روز وڈھ میں ایک نوجوان تاجر کو دن دھاڑے ایک چیک پوسٹ کے نزدیک فائرنگ کر کے قتل کیا گیا. ذرائع نے اس واقعے کے حوالے سے بتایا کہ پچھلے واقعات کے سلسلے کو دیکھتے ہوئے نوجوان تاجر کے قتل میں بھی نام نہاد امن فورس شامل ہے جن کی شر سے نہ وڈھ کا چرواہا محفوظ ہے نہ وڈھ کا طالب علم اور نہ ہی کاروباری شخصیات، مالداروں کو بجار کے نام سے لوٹا جارہا ہے اور دکانداروں کو بھتہ خوری کے نام پہ، وڈھ کی بد قسمتی یہ ہے کہ قومی راہشون سردار عطااللہ مینگل کے وفات کے بعد وڈھ میں گورگین مینگل کے ڈیتھ اسکواڈ امن فورس کی شر سے کوئی بھی شخص محفوظ نہیں ہے، گزشتہ وارداتوں کی طرح امن فورس کے کارندوں نے کل ایک اور خاندان کا چراغ گل کردیا۔
ذرائع کے مطابق حسب روایت سرکاری سرپرستی میں چلنے والی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے دوسروں پہ الزامات لگانے شروع کردئیے، وڈھ کے عوام اور خصوصاً تاجر برادری یہ سوال کرتی ہے کہ جس امن فورس کے لئے وہ ماہانہ 15 سے 20 لاکھ روپے تنخواہیں بھی ادا کرتے ہیں اور یہ امن فورس کے سپاہی جہاں پہ گشت بھی کرتے ہیں اور اس نوعیت کے واقعات بھی انھی جگہوں پہ کیوں ہوتے ہیں اور ہر بار یہ محض اتفاق تو نہیں ہو سکتا جس کا مطلب دال میں کچھ کالا ضرور ہے ۔
اب وڈھ کا باشعور عوام یہ جان گیا ہے کہ یہ ڈیتھ اسکواڈ امن فورس وڈھ میں امن قائم کرنے کے لیے نہیں بلکہ انکا استحصال کرنے اور انہیں غلام بنانے کے لیے بنایا گیا ہے ۔
