کوئٹہ سے جبری لاپتہ پارٹی چیئرمین جیئند بلوچ بازیاب ہوگئے۔ بی ایس او

 


کوئٹہ ( نامہ نگار ) کوئٹہ سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں تیسری مرتبہ جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین جیئند بلوچ بازیاب ہوگئے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ترجمان کے مطابق جیئند بلوچ کو 24 اور 25 جولائی کی درمیانی شب کوئٹہ کے علاقے اسپنی روڈ میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا تھا۔
بی ایس او کا کہنا ہے کہ اس کے بعد دس روز تک نہ تنظیم اور نہ ہی اہل خانہ کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم کی گئی، جس دوران وہ لاپتہ رہے۔
یاد رہے کہ جیئند بلوچ اس سے قبل بھی دو مرتبہ جبری گمشدگی کا نشانہ بن چکے ہیں، پہلی مرتبہ پاکستانی فورسز نے ان کے والد قیوم بلوچ اور بھائی حسنین بلوچ کو بھی ان کے ہمراہ جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا، تاہم جیئند بلوچ اور ان کے والد منظرعام پر آکر بازیاب ہوگئے تھے۔
جیئند بلوچ کے چھوٹے بھائی حسنین بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد مختلف کیسز میں ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی تھی اور وہ گزشتہ آٹھ سال سے کراچی میں زیرِ حراست ہیں۔
بی ایس او کے ترجمان نے مزید بتایا کہ شال زون کے آرگنائزر یونس بلوچ، جنہیں 25 جولائی کو کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا تھا، تاحال منظرعام پر نہیں آسکے ہیں، ترجمان نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post