بابا مری بلوچ تحریکِ آزادی کے ایسے رہنما ہیں، جنھوں نے بلوچستان کی بھٹکی ہوئی تحریک کو آزادی کے راستے پر گامزن کیا، بی این ایم

 


کوئٹہ ( پریس ریلیز ) بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ترجمان نے بلوچ قوم دوست رہنما بابا خیربخش مری کی بارہویں برسی کی مناسبت سے ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے جاری بیان میں کہا ہےکہ بابا خیربخش مری بلوچ تحریکِ آزادی کے ایسے رہنما ہیں، جنھوں نے بلوچستان کی بھٹکی ہوئی تحریک کو آزادی کے راستے پر گامزن کیا اور اسے پختہ بنیادیں فراہم کیں۔ بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ا یم) آپ کی فکر کو قومی وراثت سمجھتی ہے؛ آپ نے بلوچ قوم کو بقا کا راستہ دکھایا اور منزل کی نشاندہی کی۔ آپ کی راہنمائی اور قربانیوں کی بدولت آج لاکھوں بلوچ تحریکِ آزادی کا حصہ ہیں۔

انھوں نے کہاہے کہ بابا خیربخش مری محض ایک روایتی قبائلی اور سیاسی رہنما نہ تھے بلکہ آپ ایک انقلابی اور قوم دوست فلاسفر تھے۔ آپ بلوچ سماج، علاقائی اور عالمی حالات و سیاست کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ پاکستانی بندوبست میں بلوچ قومی شناخت کا تحفظ ممکن نہیں۔ آپ نے اپنے اور بلوچ قوم کے مسلسل ناکام تجربوں سے یہ سیکھا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ سے قومی حقِ خودارادیت کا حصول تو درکنار، نلکا نالی اور بنیادی شہری حقوق کا حصول بھی ممکن نہیں۔ بلوچستان میں غیر پارلیمانی قومی سیاست کو آپ کی واضح سوچ نے طاقتور بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ترجمان نے کہاہے کہ آپ قبائلی نظام کو فرسودہ قرار دیتے تھے اور بلوچ قوم کے لیے ایک ترقی پسند اور جدید ریاست کے خواہاں تھے جہاں سب کو آزادی، برابری اور انصاف میسر ہو۔ آپ نہ صرف بلوچستان کے اندر سیاسی، سماجی اور معاشی اجارہ داریوں کے مخالف تھے بلکہ آپ بین الاقوامی قوتوں کی اجارہ دارانہ پالیسیوں کی بھی دو ٹوک مخالفت کرتے تھے۔

بی این ایم نے کہاہے کہ آپ نے جلاوطنی برداشت کی، وراثت میں ملی قبائلی طاقت، جائیداد اور مراعات کی پرواہ کیے بغیر بلوچ قومی آزادی کی تحریک کی بنیادیں مضبوط کیں۔ ترجمان نے مزید کہاہے کہ آپ نے اپنی اولاد سمیت اپنا سب کچھ بلوچ قوم کی بقا اور تحریک آزادی کے لیے قربان کیا اور ایک مضبوط چٹان کی مانند اپنے موقف پر آخری سانس تک ڈٹے رہے۔ آپ نے بلوچ قوم کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نظریاتی اور عسکری طور پر منظم جدوجہد کا درس دیا۔ آپ کے ’حق توار‘ کے نام سے قائم کردہ سرکلز نے بلوچستان کے طول و عرض میں غور و فکر اور علم و عمل کی مشعل روشن کی، جس سے بلوچ قوم نے اپنی منزل کا راستہ پایا۔‘‘انھوں نے آخر میں کہا ہے کہ ہمیں بابا خیربخش مری کی شخصیت اور کردار سے صبر، دانشمندی اور موثر حکمتِ عملی کا درس ملتا ہے۔ آپ جذباتی پن، غیر معروضی سیاست اور لفاظی پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ آپ نے ہمیں سکھایا کہ موثر اور عملی سیاست کسی بیانیے اور میڈیا پروپیگنڈے کی محتاج نہیں ہوتی اور عمل کے بغیر محض نعرے بازی سے تحریکیں نہیں چلتیں۔ آپ کی اسی سوچ نے بلوچ مزاحمتی سیاست کو جلا بخشی جو آج توانا ترین شکل میں موجود ہے۔

BalochistansToday

Post a Comment

Previous Post Next Post