لاہور ( نامہ نگار ) لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں جاری عاصمہ جہانگیر کانفرنس اس وقت شدید احتجاج کی زد میں آ گئی ہے، جب پاکستان کے سابق وزیرِ داخلہ اور موجودہ وزیرِاعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بلوچستان اور جبری گمشدگیوں سے متعلق متنازع ریمارکس دیے۔
رانا ثناء اللہ کی تقریر کے دوران سامعین میں سے ایک خاتون کی جانب سے ’’شٹ اپ‘‘ کہے جانے پر وہ بوکھلا گئے، جس کے بعد ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کو جواز فراہم کرتے ہوئے اور لاپتہ افراد کو بی ایل اے کے حامی ظاہر کرتے ہوئے کہا بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک افراد نے اپنے انسانی حقوق خود قربان کیے ہیں، اس لیے بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا پہلے مرغی آئی یا انڈا؟ اگر دہشت گردی ہو گی تو جبری گمشدگیاں بھی ہوں گی۔
ان بیانات پر کانفرنس میں موجود شرکاء نے شدید ردِعمل دیا اور رانا ثناء اللہ سے ہال چھوڑنے کا مطالبہ کیا، تاہم ان کی جانب سے مؤقف پر قائم رہنے کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی۔
معروف سماجی کارکن شیما کرمانی، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ سمیت نصف سے زیادہ شرکاء نے احتجاجاً ہال سے واک آؤٹ کیا، واک آؤٹ کے بعد ہال کے باہر ماہ رنگ بلوچ کو رہا کرو کے نعرے لگائے گئے۔
اس موقع پر عاصمہ جہانگیر کی بھانجی نے کہا کہ رانا ثناء اللہ جیسے افراد کا عاصمہ جہانگیر کے نام سے منسوب کانفرنس میں آ کر بہتان تراشی کرنا ان کی روح کو تکلیف پہنچانے کے مترادف ہے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے نام پر منعقد کانفرنس میں جبری گمشدگیوں کا جواز پیش کرنا ناقابلِ قبول ہے، اور ایسے بیانات نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہیں بلکہ عاصمہ جہانگیر کے نظریات کی بھی نفی کرتے ہیں۔
