بلوچستان میں 31 جنوری سے 5 فروری تک فوج اور بلوچ عسکریت پسندوں نے ایک دوسرے کے ھلاکتوں کی تعداد جاری کردی

 


کوئٹہ ( نامہ نگار )  پاکستانی فوج کی ترجمان  آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں حالیہ آپریشنز کے دوران 216 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 29 جنوری 2026 کو ضلع پنجگور اور ہرنائی کے نواحی علاقوں میں کارروائیاں اس وقت شروع کی گئیں جب شدت پسند عناصر مقامی آبادی کے لیے فوری خطرہ بنے ہوئے تھے۔ ان کارروائیوں کے دوران مبینہ طور پر 41 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بعد ازاں مختلف علاقوں میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے مجموعی طور پر 216 شدت پسند مارے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں میں 36 عام شہری، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ 22 سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب  جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ آپریشن ہیروف فیز ٹو پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلسل جاری ہے۔ ان کے مطابق متعدد محاذوں پر بی ایل اے کے جنگجو مضبوط پوزیشنوں پر موجود ہیں اور کئی علاقوں میں کنٹرول برقرار ہے۔

بی ایل اے کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی اور محتاط اندازوں کے مطابق اب تک پاکستانی فوج، ایف سی، پولیس، سی ٹی ڈی اور فوج کے زیرِ سرپرستی قائم مبینہ ڈیتھ اسکواڈز کے کم از کم 310 اہلکار اور کارندے ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ زمینی صورتحال کے پیش نظر ان نقصانات میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

ترجمان  کے مطابق آپریشن کے دوران اب تک تنظیم کے 46 جنگجو مارے جا چکے ہیں، جن میں 29 مجید بریگیڈ کے فدائین، 10 فتح اسکواڈ اور 7 ایس ٹی او ایس یونٹ کے ارکان شامل ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post