تربت ( نامہ نگار ) عالمی انسانی حقوق کے دن کے موقع پر انسانی حقوق سے وابستہ سماجی کارکن وسیم سفر بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے، جبکہ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور وسیع پیمانے پر مبینہ ریاستی جبر نے زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
انہوں نے نے کہا کہ 10 دسمبر 1948 کو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کی منظوری دنیا کو یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ ہر فرد عزت، وقار، آزادی اور مساوات کا حق رکھتا ہے۔ مگر افسوس کہ بلوچستان میں یہ بنیادی حقوق بری طرح پامال ہو رہے ہیں۔
انہوں نے نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں ماورائے عدالت گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ درجنوں مسخ شدہ لاشوں اور اجتماعی قبروں کی برآمدگی نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ متاثرین کے مطابق کئی لاپتہ افراد کو برسوں تک حراست میں رکھنے کے بعد فیک انکاؤنٹر کے ذریعے مارا جاتا ہے، جبکہ ان کی شناخت اکثر کپڑوں اور جوتوں سے کی جاتی ہے۔
پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ خواتین بھی اس بحران سے محفوظ نہیں۔ متعدد خواتین کی گرفتاری، جبری گمشدگی، معاشی پابندیوں اور گھروں پر چھاپوں کے واقعات نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بعض خواتین کو صرف اپنے لاپتہ عزیزوں کی بازیابی کیلئے احتجاج کرنے کی پاداش میں مقدمات کا سامنا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انسانی حقوق اور سیاسی کارکنوں پر سخت قوانین کا استعمال روزمرہ معاملہ بن چکا ہے، جبکہ آزادیِ اظہار پر غیر اعلانیہ پابندی، روزگار میں رکاوٹیں اور نقل و حرکت پر قدغن شہری حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ملکی اداروں سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کی صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے اور ایک آزاد فیکٹ فائنڈنگ کمیشن تشکیل دے کر جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور مبینہ ریاستی جبر کی تحقیقات کرائی جائیں۔
پریس کانفرنس میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے رضاکاروں پر قائم جھوٹے مقدمات واپس لیے جائیں، سخت قوانین کا استعمال روکا جائے، خواتین کو تحفظ فراہم کیا جائے اور بلوچستان میں انسانی حقوق کا حقیقی تحفظ یقینی بنایا جائے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ انسانی وقار، انصاف اور بنیادی آزادیوں کے لیے اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھیں گے اور ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔
