پنجگور دز کور میں نامکمل ڈیم کو زمینداروں اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کرنے کا اعلان کردیا۔پریس کانفرنس

 


پنجگور( نامہ نگار )  زمیندار ایکشن کمیٹی دزپروم کے رہنماؤں حاجی محمد عالم شمبےزئی، حاجی ابراہیم ، کہدا فیض محمد ، ڈاکٹر امان اللہ ، کہدا برکت ،دلاور شمبے زئی ، حاجی عبدالغفور، ملا عابد ولی ،  حاجی بشیر ،ملا واجداد،آصف بلوچ ، حبیب حسن ، طارق بشیر ، حاجی عبد المالک ، عبد الرؤف نے دیگر زمینداروں اور علاقائی معتبرین کے ہمراہ میں دزپروم میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس  کے دوران دز کور میں نامکمل ڈیم کو اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کرنے کا اعلان کردیا رہنماؤں نے  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروم ایک زرخیز علاقہ یہاں کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سینکڑوں ٹیوب ویل لگائے ہیں زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی کرکے اپنے گھروں کے چھولے جلا رہے ہیں لیکن علاقے میں ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے زیر زمین پانی سطح بہت نیچے گر گیا ہے  گومازی اور دوسرے علاقوں میں پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہے کچھ لوگوں نے نکل مکانی بھی کی ہے زیر زمین پانی کی سطح گرنے کی وجہ سے زراعت بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت 3 چھوٹے ڈیمز بنائے ہیں اور دز کور میں ایک سرکاری ڈیم جو گزشتہ 4, 3 سالوں سے زیر تعمیر ہے جو ابھی تک نہ مکمل ہے اور کچھ عرصے سے کچھ ناگزیر وجوہات بنا پر کام بند ہے ٹھیکدار نے کام ادھورا چھوڑ کر اپنے مشینری بھی لے گئے ہیں لہٰذا ھم علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت جلد اس نامکمل  ڈیم کے ادھورے  کام شروع کریں گے  تاکہ بارش کی پانی ضائع نہ ہو جائے انہوں نے کہا کہ اس ڈیم کی تعمیر علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت کرنے جارہے ہیں سرکار سے مایوسی برقرار ہے علاقے کی زراعت کو بچانے کے لیے ہمارے پاس واحد راستہ یہی بچا کہ ہم خود اسکو مکمل کریں مذید تاخیر علاقے کی زراعت کے لیے نہ صرف نقصان دہ ہوگا بلکہ جو لوگ کھیتی باڑی کے زریعے اپنی ضروریات زندگی پوری کررہے ہیں انکو معاشی سطح پر مذید گمبیر مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا لہذا اس سلسلے میں  ہم اپنے نمائندوں رحمت صالح بلوچ ، میر اسداللہ ،اور پھلین بلوچ اور ڈپٹی کمشنر سے اپیل کرتے ہیں کہ وھ اس ڈیم کی تعمیر میں ہمارے ساتھ تعاون کریں تاکہ ہم اس ادھورے ڈیم کو کسی حدتک تعمیر کرسکیں تاکہ بارشوں کے پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکے انہوں نے کہا کہ کام مشکل ضرور ہے مگر باحالت مجبوری یہ قدم ازخود اٹھانا لازمی ہے علاقے کے عوام کے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post