کوئٹہ ( پریس ریلیز ) بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر پانک نے اکتوبر 2025 کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بلوچستان بھر میں ریاست پاکستان کی دہشت گردی، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ریاستی اداروں اور ان کی سرپرستی میں سرگرم مسلح گروہوں نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے انسانی حقوق کی مسلسل اور کھلی خلاف ورزیاں کیں۔ رپورٹ میں کراچی اور ڈیرہ غازی خان میں بھی اسی نوعیت کے واقعات سامنے آنے کا ذکر ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بحران ایک وسیع تر ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں مجموعی طور پر 87 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ سب سے زیادہ واقعات کیچ، پنجگور، خضدار اور ڈیرہ بگٹی میں رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کو گھروں پر چھاپوں، راستے میں روک کر یا بازاروں سے اغوا کیا گیا۔ حراست سے بازیاب ہونے والے 18 افراد نے جسمانی تشدد، ذہنی اذیت اور طویل تفتیش کے دوران ہونے والی بدسلوکی کی تفصیلات فراہم کیں، جو حراستی مراکز میں منظم تشدد کے رحجان کی نشاندہی کرتی ہیں۔
رپورٹ میں 20 ماورائے عدالت قتل کی تصدیق بھی شامل ہے، جن میں سے بیشتر افراد پہلے سے جبری گمشدہ اور پاکستانی فوج کے حراست میں تھے۔ مختلف علاقوں میں ملنے والی لاشوں پر گولیوں کے نشانات، تشدد کے آثار اور ہاتھ باندھنے کے ثبوت شامل تھے۔ ان قتل ہونے والے افراد میں جہانزیب بلوچ بھی شامل تھے، جنھیں 28 ستمبر کو پسنی کے علاقے ببر شور سے اغوا کیا گیا اور یکم اکتوبر کو لسبیلہ کے زیرو پوائنٹ کے قریب ان کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی۔ اسی طرح قدوس بلوچ، نیک سال اور نذر بلوچ—تینوں سرحدی تجارت سے وابستہ ڈرائیور—کو 30 ستمبر کو بلیدہ اور پروم کے علاقوں سے جبری لاپتہ کیا گیا، اور اگلے ہی دن ان کی لاشیں سوراپ ڈیم کے قریب برآمد ہوئیں۔
واشک میں محمد اعظم، جو پیشے کے اعتبار سے دکاندار تھے، 11 ستمبر کو اغوا کیے گئے اور 6 اکتوبر کو ان کی لاش ناگ کے علاقے گوارگ سے ملی۔ پنجگور کے علاقے پروم میں فقیر جان کو 18 اکتوبر کو پاکستانی فوج کے ڈیتھ اسکواڈ نے اغوا کیا، اور دو دن بعد ان کی تشدد زدہ لاش ایک سنسان مقام سے ملی۔ اس کے علاوہ ظہور احمد کو بھی 20 اکتوبر کی رات حراست میں لیا گیا اور اگلے روز ان کی لاش پروم کے نگور کور کے قریب برآمد ہوئی۔ تربت میں عبدالخالق کی لاش یکم نومبر کو ملی، جنھیں کچھ دن قبل اغوا کیا گیا تھا، جبکہ نجیب اللہ—جو ایک سرکاری سکول میں نائب قاصد تھے—کو 30 اکتوبر کو ریاستی سرپرستی میں سرگرم مسلح گروہوں نے قتل کیا۔
رپورٹ میں نازیہ شفیع کا انتہائی تکلیف دہ کیس بھی شامل ہے۔ 28 اکتوبر کی رات پنجگور میں فرنٹیئر کور ( ایف سی ) کے اہلکاروں اور مقامی مخبروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر نازیہ، ان کی والدہ اور بھائی کو اغوا کیا۔ اگلی صبح نازیہ شدید زخمی حالت میں ملی اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔
ڈیرہ بگٹی میں تین جبری گمشدہ افراد جمیل بگٹی، پیر جان بگٹی اور حاضر بگٹی—کو 17 اکتوبر کو سی ٹی ڈی کے ایک جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا، شواہد کے مطابق جمیل اور پیر جان کو مارچ 2025 میں فوجی اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا، جس سے اس مقابلےکا ’’جعلی‘‘ ہوںا ثابت ہے۔
رپورٹ میں دو سنگین فضائی حملوں کی تفصیل بھی شامل ہے۔ 5 اکتوبر کو زہری کے علاقے مولاچاری پر پاکستانی فوج کی ایک فضائی بمباری میں چھ شہری ہلاک ہوئے جن میں منظور احمد، ان کے دو بچے، ان کا بھتیجا، بی بی رحیمہ اور ان کا بچہ شامل تھے۔ تین دیگر افراد زخمی ہوئے۔ اکتوبر کے آخر میں شال کی چلتن پہاڑیوں میں پاکستان فوج کے فضائی حملے میں نو نہتے نوجوان زخمی ہوئے، جو پکنک کے لیے جمع تھے۔ ان میں جہانزیب محمد شہی،عمران سمالانی، مقبول احمد، زاہد بلوچ، منظور احمد، دولت خان، ارباب بلوچ، رفیق لہڑی اور واجد علی شامل تھے۔ رپورٹس کے مطابق حکام نے ابتدائی طور پر اس حملے کی تصدیق سے گریز کیا۔
رپورٹ یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ جبری گمشدگیوں، تشدد، ماورائے عدالت قتل اور فضائی حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات بلوچستان میں ایک گہرے انسانی حقوق کے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کے مبصرین نے فوری تحقیقاتی کمیشن، سیکیورٹی اداروں کی جوابدہی اور بین الاقوامی نگرانی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عام شہریوں کو اس ’’بے لگام ریاستی طاقت اور خوف کے ماحول‘‘ سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فوج اور اس کے ماتحت اداروں کی جانب سے جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل ایک مسلسل اور معمول بنے ہوئے واقعات ہیں۔ انسانی حقوق کی بلوچستان میں سب سے فعال ترین تنظیم پانک کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر ایک سے زائد جبری گمشدگیوں کی رپورٹ سامنے آتی ہے۔ بلوچستان میں جاری انسانی بحران کی شدت کا اندازہ نہ صرف ماضی کے واقعات سے ہوتا ہے بلکہ حالیہ واقعات بھی اسی تسلسل کی توسیع ہیں۔ موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ کوئی اچانک اضافہ نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری منظم ریاستی جبر اور تشدد کا حصہ ہے۔
