کوئٹہ ( پ ر) انسانی حقوق کے لیے کام کرنیوالی تنظیم بلوچ وائس فار جسٹس نے پروفیسر عثمان قاضی کے اعترافی بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ پروفیسر عثمان قاضی کے مبینہ اعترافی بیان نے نہ صرف قانونی سوالات کو جنم دیا ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔ یہ بیان منظر عام پر آنے سے محض ایک دن قبل جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے سوشل میڈیا پر زیرِ بحث لایا گیا اور اگلے روز صوبائی حکومت نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اسے باقاعدہ طور پر پیش کیا۔ یہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے انصاف کے بجائے پروپیگنڈے کو ترجیح دے رہے ہیں، اور عدلیہ کے دائرہ اختیار کو نظرانداز کر کے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش
کی جا رہی ہے۔
کلیدی انسانی حقوق اور قانونی سوالات
1. منصفانہ ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی:
اگر پروفیسر عثمان قاضی نے واقعی کوئی اعتراف کیا ہے، تو کیا انہیں کسی آزاد اور غیرجانبدار عدالت کے روبرو پیش کیا گیا؟ آئینِ پاکستان اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت ہر فرد کو fair trial اور due process of law کا حق حاصل ہے۔ اس کے بغیر حاصل شدہ کوئی بھی بیان قانونی اور اخلاقی حیثیت سے ناقابلِ قبول ہے۔
2. حراست میں بیان کی غیر قانونی حیثیت:
کسی بھی تحقیقاتی ادارے یا CTD کی تحویل میں دیا گیا اعترافی بیان ناقابلِ اعتبار سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ دباؤ، دھمکی یا تشدد کے تحت لیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی قانون واضح کرتا ہے کہ تشدد یا غیر انسانی سلوک کے ذریعے حاصل شدہ بیانات ناقابلِ قبول ہیں۔
3. میڈیا ٹرائل اور وقار کی پامالی:
عدالتی تقاضے پورے کئے بغیر کسی فرد کا اعترافی بیان میڈیا پر نشر کرنا نہ صرف trial by media کے مترادف ہے بلکہ یہ کسی شخص کی شہرت، وقار اور نجی زندگی کے حق کی بھی خلاف ورزی ہے، جو عالمی انسانی حقوق کے معاہدوں میں محفوظ ہے۔
4. تشدد اور دباؤ کے ذریعے اعتراف:
اگر یہ بیان دورانِ حراست یا اذیت کے تحت لیا گیا ہے تو اس کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ تشدد نہ صرف آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ Convention Against Torture (CAT) جیسے عالمی معاہدوں کے بھی منافی ہے، جن پر پاکستان دستخط کر چکا ہے۔
5. تعلیم اور سماجی ترقی پر حملہ:
بلوچ اساتذہ، طلباء اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا دراصل تعلیم کے حق (right to education) پر حملہ ہے۔ پروفیسروں کو بدنام کرنے اور طلباء کی پروفائلنگ کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلوچ نوجوان کو تعلیم اور ترقی سے محروم کرنے کی ایک منظم کوشش جاری ہے۔
6. اجتماعی سزا اور بنیادی آزادیوں کی معطلی:
پروفیسر عثمان قاضی کے مبینہ اعترافی بیان کو بنیاد بنا کر انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بندش، سڑکوں اور بینکوں پر قدغن، زائرین کے سفر پر پابندیاں اور شہری آزادیوں کو معطل کرنا دراصل اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔ یہ اقدامات آئینِ پاکستان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معاہدات جیسے International Covenant on Civil and Political Rights (ICCPR) کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ریاست کا یہ طرزِ عمل اپنی ناکام حکمرانی کو چھپانے کے لیے انسانی حقوق کی پامالی کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
پروفیسر عثمان قاضی کا مبینہ اعترافی بیان اور اس کے بعد کے اقدامات انسانی وقار، منصفانہ ٹرائل کے حق، آزادیِ اظہار، نقل و حرکت اور تعلیم جیسے بنیادی حقوق پر سنگین حملہ ہیں۔ ایک جمہوری اور آئینی ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے بجائے انصاف اور قانون کی حکمرانی کو مقدم رکھے، میڈیا ٹرائل کی روایت کو ترک کرے اور شہریوں کو ان کے آئینی و بین الاقوامی حقوق فراہم کرے۔
تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ریاستی اداروں نے ایسے اعترافی بیانات کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہو۔ دورانِ حراست اسی نوعیت کے ویڈیوز پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور اراکین اسمبلی کے بھی نشر کیے گئے تھے، جن پر 9 مئی کے واقعات کا الزام لگایا گیا۔ لیکن آج تک یہ الزامات کسی عدالت میں ثابت نہیں کیے جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی ادارے ہمیشہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اس طرح کے ڈراموں کا سہارا لیتے ہیں۔ موجودہ وزیر اعلیٰ بلوچستان بھی ایسے ڈراموں کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر سامنے آئے ہیں؛ اپنے دورِ وزارتِ داخلہ کے دوران انہوں نے کئی ایسے من گھڑت واقعات تراشے۔ اسی تناظر میں شفقت رودینی اور ابراہیم نیچاری کو میڈیا کے سامنے لا کر اعترافی بیانات دلوائے گئے، اور بعد ازاں انہیں ماورائے عدالت جعلی مقابلوں میں قتل کر دیا گیا۔ اس پس منظر میں پروفیسر عثمان قاضی کی زندگی بھی شدید خطرے میں ہے، اور ان کے خلاف یہ مہم ایک بار پھر ان ہی پرانے ہتھکنڈوں کی بازگشت ہے۔
بلوچ وائس فار جسٹس کی اپیل
بلوچ وائس فار جسٹس عالمی انسانی حقوق کے اداروں بالخصوص ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، فرنٹ لائن ڈیفینڈرز اور دیگر معزز تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بلوچستان میں زیرِ حراست افراد کے خلاف اعترافی بیانات کے ذریعے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا فوری نوٹس لیں۔
یہ اعترافی بیانات، جو دباؤ، تشدد اور غیر قانونی حراست کے دوران لیے جاتے ہیں، نہ صرف بنیادی انسانی وقار اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ان سے زیرِ حراست افراد کی زندگیاں بھی شدید خطرے میں ڈال دی جاتی ہیں۔ پروفیسر عثمان قاضی کے حالیہ مبینہ اعترافی بیان اور اس کے بعد ہونے والے اقدامات اس حقیقت کو مزید آشکار کرتے ہیں کہ ریاستی ادارے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے بجائے پروپیگنڈے اور میڈیا ٹرائل کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ہم عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ:
بلوچستان میں جاری ماورائے عدالت حراستوں، تشدد، جعلی مقابلوں اور اعترافی بیانات کے ذریعے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں۔
حکومتِ پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ فیئر ٹرائل، عدالتی دائرہ اختیار اور بنیادی آزادیوں کی ضمانت دے۔
زیرِ حراست افراد، بشمول پروفیسر عثمان قاضی، کی زندگی، وقار اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔
بلوچستان میں اساتذہ، طلباء اور سول سوسائٹی کو نشانہ بنانے کے سلسلے کو فوری طور پر بند کیا جائے اور تعلیم کے حق کو محفوظ بنایا جائے۔
بلوچ عوام برسوں سے اپنی آزادیوں اور حقوق کی پامالی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری اس ناانصافی کے خلاف مؤثر آواز بلند کرے اور بلوچستان کے عوام کو وہی انصاف اور حقوق فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے جو دنیا کے ہر شہری کا حق ہے۔

