کوئٹہ (ویب ڈیسک ) جبری گمشدہ بلال بلوچ ولد امام بخش، اصغر قمبرانی ولد غلام علی، جواد احمد ولد قدرت اللّٰہ قمبرانی، اور سید گُل ولد حاجی گُل کے لواحقین پریس کلب شال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ہم جبری گمشدہ افراد کے لواحقین آج آپ کے سامنے ایک سنگین مسئلہ لے کر آئے ہیں۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ دو دہائیوں سے جاری ہے، جس نے ہر طبقہ فکر کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ غیر انسانی جبر دن بدن شدت اختیار کر رہا ہے، اور اب تو جبری گمشدگی کے بعد بازیاب ہونے والے افراد کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے لواحقین کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
انھوں نے کہاکہ ہزاروں جبری گمشدہ افراد کے خاندانوں میں سے ہم چند لواحقین آج اس مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے لاپتہ عزیزوں کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس پریس کانفرنس کو اعلیٰ حکام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں گے۔
لوحقین نے کہاکہ بلال بلوچ براہوی زبان کے شاعر ہیں، جنہیں کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ رات کی تاریکی میں خفیہ ایجنسیوں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ہمارے گھر پر دھاوا بولا، پورے خاندان کو اذیت کا نشانہ بنایا، اور گھر کی مکمل تلاشی کے بعد بلال بلوچ کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ تب سے لے کر آج تک، ان کی کوئی خبر نہیں۔ ہمارے خاندان نے کئی دن امید میں گزارے کہ شاید انہیں چھوڑ دیا جائے گا، مگر جب کوئی اطلاع نہ ملی تو مجبوراً ہم میڈیا اور باشعور عوام کے سامنے اپنا مدعا پیش کر رہے ہیں۔
پندرہ فروری 2025 کی رات، سید گل کو کلی عالم خان، عالمو چوک، نزد شاہ جی مسجد، کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ دو ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی۔
اصغر قمبرانی براہوی زبان کے گلوکار ہیں، جنہیں بیس فروری کو کوئٹہ سے جبری طور پر غائب کر دیا گیا۔ وہ ایک تھائرائیڈ مریض ہیں اور حال ہی میں ایک حادثے کے باعث ان کی گردن پر شدید چوٹ آئی تھی۔ وہ مستقل دوائیں استعمال کر رہے تھے، مگر اب ہمیں ان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش لاحق ہے۔ اگر انہیں بر وقت بازیاب نہیں کیا گیا تو ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہاکہ جواد احمد کو 40 دن سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے کہ انہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ انہیں 17 جنوری 2025 کو سندھ، سیہون شریف دربار سے زبردستی اغوا کیا گیا۔ ان کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے گھر والے شدید خوف اور مالی مشکلات میں مبتلا ہیں۔ جواد کے خاندان میں ان کے چھوٹے بہن بھائی اور ایک بیمار والد شامل ہیں، جن کی کفالت کی ساری ذمہ داری جواد پر تھی۔ ان کی غیر موجودگی میں ان کا خاندان انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہمیں یہ خدشہ ہے کہ جواد کو لاپتہ کرنے کے بعد کسی جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے، یا کسی اور غیر قانونی طریقے سے ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ ہم ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
لواحقین نے کہاکہ آنے والا مہینہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس بابرکت مہینے کی تقدس کا احترام کرتے ہوئے ریاستی ادارے ہمارے پیاروں کو بازیاب کریں گے اور ہمیں اس اذیت سے نکال کر ہماری خوشیاں لوٹائیں گے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہم سڑکوں پر نکلیں یا کسی کو تکلیف ہو، مگر اگر تین دن کے اندر ہمارے جبری گمشدہ عزیزوں کو رہا نہیں کیا گیا تو ہم مجبوراً شال بھر میں مختلف مقامات پر احتجاجی دھرنے دیں گے۔
انھوں نے کہاکہ ہم کوئٹہ کے باشعور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے دکھ کو سمجھیں اور ہمارا ساتھ دیں۔ ہم سڑکیں بند کرکے عوام کو تکلیف نہیں دینا چاہتے، مگر جب تک ہمارے پیارے بازیاب نہیں ہوتے، ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ ہم اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہماری فریاد سنیں، جواد، بلال، سید گل اور علی اصغر قمبرانی کو بازیاب کریں، اور ہمیں مزید اذیت میں مبتلا نہ کریں